سوچنے کی بات
Urdu book, p. 320
By Maulana Wahiduddin Khan
سوچنے کی بات قرآن خدا کی کتاب ہے جو کائناتی حقیقتوں کو بیان کرتی ہے۔ قرآن میں جن حقیقتوں کا اعلان کیا گیا ہے، ان میں سے ایک عالمگیر حقیقت وہ ہے جو ان لفظوں میں ظاہر کی گئی ہے: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5-6:94)۔ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ موجودہ دنیا میں جس طرح کانٹے کے ساتھ پھول ہوتا ہے، اسی طرح یہاں دشواری کے ساتھ آسانی کا پہلو بھی ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اللہ تعالی نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ کبھی خوشگوار امکانات کو ختم نہ کر سکے۔ ہر ناپسند صورت حال میں دوبارہ ایک پسندیدہ موقع آدمی کے لیے باقی رہے۔ امکانات کی یہ فہرست اتنی لمبی ہے کہ اس کا سلسلہ سلمان رشدی جیسے ناز زیبا واقعات تک پہنچ جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم مدینہ میں سلمان رشدی جیسا ایک برا کردار موجود تھا۔ یہ عبداللہ بن ابی بن سلول ہے۔ اس ظالم نے ایک بار ایک معمولی واقعہ کو شوشہ بنایا اور اس کے ذریعہ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پر نعوذ باللہ بدکرداری کا الزام لگایا۔ یہ جھوٹی کہانی اس طرح پھیلی کہ پورے مدینہ میں ایک مہینہ تک ہنگامی حالت طاری رہی۔ اس کے بعد قرآن میں اس کی تردید میں سورۃ النور (آیات 11 تا 20) اتاری گئی۔ ان تردیدی آیات میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ: لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُو خَيْرٌ لَّكُمْ (24:11)۔ یعنی اے مسلمانوں، یہ طوفان جو تمہارے خلاف بر پا کیا گیا ہے، اس کو تم اپنے حق میں برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے حق میں اچھا ہے۔ بہتان تراشی کا واقعہ بظاہر "عسر" کا ایک واقعہ تھا۔ مگر قرآن نے بتایا کہ اس میں بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader