شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 321
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہارے لیے ”یسر“ کا یقینی پہلو چھپا ہوا ہے۔ اس یسر (موافق پہلو) کی بہت سی صورتیں ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ جب داعی کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے تو اس کی ذات اور اس کی دعوت لوگوں کے درمیان گفتگو کا موضوع بن جاتی ہے۔ وہ لوگوں کے لیے ایک سوالیہ نشان کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس طرح داعی کو موقع ملتا ہے کہ وہ ان جھوٹے پروپیگنڈوں کی تردید کر کے اصل حقیقت کو واضح کرے ۔ وہ اپنی بات کو از سر نو مزید وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کر سکے۔ اس طرح ایک طرف مخالفین کا بر سر باطل ہونا معلوم ہوتا ہے اور دوسری طرف داعی کا بر سر حق ہونا اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اور زیادہ ثابت شدہ حقیقت بن کر سامنے آجاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئے لوگ دعوتِ حق سے متعارف ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ ابھی تک شبہات کا شکار تھے، وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ کر داعی کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ لوگ اپنی آنکھوں سے عیانًا دیکھ لیتے ہیں کہ حق کا داعی ٹھوس حقیقت کی زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مخالفین کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔ اصل مسئلہ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو اس معاملہ میں قابلِ غور مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہاں رشدی جیسے لوگ ہیں جو اسلام کے خلاف لکھتے اور بولتے ہیں ۔ بلکہ اصل قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ وہ کون سے حالت ہیں جس نے انہیں یہ موقع دیا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف لکھیں اور بولیں ۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ برطانیہ میں 17 ویں صدی سے ایک قانون موجود ہے جو مسیحیت (اینگلیکن چرچ) کے خلاف کفریہ کلمات (Blasphemy)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader