Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

سوال و جواب

Urdu book, p. 338

By Maulana Wahiduddin Khan

کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ آپ نہج البلاغہ کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ حضرت علی کتنا زیادہ عقلی غور و فکر کو پسند کرتے تھے۔ عباسی خلافت اور اسپین کی اموی خلافت کے دور میں عقلی غور و فکر کی زبردست حوصلہ افزائی ہوئی جس کی تفصیل آپ فلپ ہٹی کی کتاب ’ہسٹری آف دی عربس‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں فخر الدین رازی کی ضخیم تفسیر اور موجودہ زمانہ میں جوہری طنطاوی کی مفصل تفسیر قرآن کی عقلی تشریح کی مثالیں ہیں۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ خاص اسی مقصد کے لیے لکھی۔ خود راقم الحروف نے تقریباً چالیس سال سے اسلام کی عقلی اور سائنسی تشریح کو اپنا موضوع بنایا ہے اور اس پر سو سے زیادہ کتابیں شائع کی ہیں مگر ساری مسلم دنیا میں کسی بھی شخص نے اس پہلو سے میری مخالفت نہیں کی۔ تاہم بعد کے زمانہ میں ایک غلط مسئلہ مسلمانوں میں پھیل گیا اور وہ یہ کہ جو شخص رسول کی اہانت کرے یا اسلام کی اہانت کرے اس کو قتل کر دیا جائے ۔ اس مسئلہ کی بنا پر کچھ لوگوں کا قتل بھی ہوا۔ مگر یہ مسئلہ بذات خود غلط ہے۔ اس کی کوئی اصل قرآن یا حدیث میں نہیں۔ اس مسئلہ کی ذمہ داری بعد کے دور کے کچھ مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ خود اسلام پر۔ سوال سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (Satanic Verses) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کہا جاتا ہے کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اس کا مصنف ایک ایسے جرم کا مرتکب ہوا ہے جس کی سزا سخت ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ (نکہت کاظمی، نئی دہلی) جواب اسلام کی تعلیمات حقیقت پسندی پر مبنی ہیں ۔ اس طرح کے معاملات کو اسلام میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page