Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

سوال و جواب

Urdu book, p. 339

By Maulana Wahiduddin Khan

جذباتی نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ رزلٹ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم باطل معبودوں کو برا کہو ورنہ لوگ جہالت کی بنا پر خدا کو برا کہنے لگیں گے۔ (6:108) یہی وجہ ہے کہ قدیم مدینہ کے سب سے بڑے گستاخ عبداللہ بن ابی کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے طاقت کے باوجود قتل نہیں کرایا۔ اس کی وجہ آپ نے یہ بتائی کہ اگر میں ایسا کروں تو وہ اسلام کی بدنامی کا باعث ہوگا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4905)۔ چنانچہ عبداللہ بن ابی اپنی طبعی موت مرا اور اس کو قتل نہیں کیا گیا، حالانکہ اس وقت عبداللہ بن ابی کو قتل کرنا بالکل آسان تھا۔ سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ 17 فروری 1989 کو دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کو تحریر لکھے جانے تک (جولائی 2000 میں) تقریباً 12 سال ہو رہے ہیں۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو اس فتوئی نے صرف الٹا نتیجہ پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد ساری دنیا میں بڑے پیمانے پر اسلام کی بدنامی ہوئی ۔ اسلام کو نفرت اور تشدد کے مذہب کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا۔ اس کتاب کے خلاف فتویٰ اور شور وغل سے اس کے مصنف کو زبر دست فائدہ حاصل ہوا، یعنی اس کو شہرت ملی، اور ”شیطانی آیات“ نہ صرف انگریزی بلکہ دیگر مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر پوری دنیا میں کثیر تعداد میں فروخت ہوئی۔ جب کہ اسلام اور مسلمانوں کے حصہ میں صرف اس کا نقصان آیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ میڈیا کا دور تھا اور جدید میڈیا کے دور میں یقیناً وہی ہونے والا تھا جو عملاً پیش آیا۔ سلمان رشدی کی مذکورہ کتاب میں نے پڑھی ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب تصنیفی اعتبار سے اس قدر لغو اور غیر دلچسپ ہے کہ شاید کوئی بھی شخص اس کو شروع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page