شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے ان پر حد جاری کرنے کی کوشش نہیں فرمائی۔ حد کا نفاذ اقتدار ملنے کے بعد کیا گیا۔ جذبات کا اعتبار نہیں اس طرح کے مواقع پر عام طور پر یہ بات کہی جاتی کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ مگر مسلمانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کسی قوم کے جذبات کا مجروح ہونا شریعت میں ہر گز معتبر نہیں۔ یہ شریعت کے حدود و تعزیرات کی کوئی دفعہ نہیں۔ اس قسم کی باتوں کا حوالہ دے کر کسی کو مارنا یا کسی کی جائداد کو جلا نا دہر اسرکشتی ہے۔ یہ اسلام کی حدود و تعزیرات کی فہرست میں ایک نئے حکم کا اضافہ کرنا ہے جس کا کسی بھی شخص کو کوئی اختیار نہیں۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ اس قسم کی ناخوشگوار باتوں پر صبر کرتے ہوئے لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچائیں۔ اس کے سوا وہ جو کچھ بھی کریں گے وہ صرف ان کے اپنے جرم میں اضافہ کرنے والا ثابت ہوگا، نہ کہ دوسروں کے حق میں اپنی اسلامی ذمہ داریوں کو ادا کرنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader