Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

جہاد یا سرکشی

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

معاملے میں برابری اور مساوات کو فرض کیا گیا ہے۔ سزائے قتل کے معاملہ میں جو لوگ قصاص (برابری) کے شرعی اصول کو اختیار نہ کریں۔ یا مثلاً معافی اور دیت قبول کرنے کے بعد مزید یہ کریں کہ وہ قاتل کو قتل کر ڈالیں تو یہ اعتداء (زیادتی) ہے۔ اور اس قسم کا اعتداء کرنے والوں کے لیے خدا کے یہاں دردناک عذاب ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جو شخص قتل کیا جائے تو اس کے وارثوں کے لیے تین میں سے ایک چیز ہے۔ قصاص، یا معاف کر دینا، یا دیت لینا ۔ اس کے بعد اگر وہ کوئی چوتھی چیز چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو۔ جو اس کے بعد بھی زیادتی کرے تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا: وَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ نَارُ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4496)۔ اس حکم شریعت کے مطابق جرم اور سزا میں برابری ہونا ضروری ہے۔ کسی مجرم کو حد شرعی سے زیادہ سزا دینا یا مقررہ سزا کے سوا کوئی اور سزا دینا سراسر حرام ہے۔ ایک شخص سے کوئی شرعی جرم سرزد ہو تو خود مجرم پر شرعی سزا کا نفاذ کیا جائے گا۔ اس کے بجائے اگر اس کے ہم قوموں کو مارا جانے لگے یا مجرم کی جائیداد کو تباہ کیا جائے تو یہ سراسر حرام ہے جو لوگ ایسا کریں یا جو لوگ ایسا کرنے والوں کی حمایت کریں حتی کہ جو لوگ ایسے فعل کو دیکھ کر خاموش رہیں وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں مبتلا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی سخت ترین بازپرس کی جائے۔ ملک کا اقتدار اگر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو جن سے یہ امید نہ ہو کہ وہ مجرم کے اوپر شرعی سزا کا نفاذ کریں گے تب بھی مسلمانوں کے لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا جائز نہیں۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کے لیے نصیحت اور صبر ہے، نہ کہ سزا کا نفاذ ۔ یہ اصول مکی دور کے عمل سے ثابت ہے۔ اس وقت مکہ کے لوگ کھلے طور پر شراب پیتے تھے۔ مگر رسول اللہ صلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page