Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

رشدی کی کہانی

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

رشدی کی کہانی 17 فروری 1989 کی صبح جو اخبارات آئے ، ان سب کے صفحہ اول پر یہ سنسنی خیز خبر تھی ایران کے شیعہ رہنما آیت اللہ خمینی نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ شیطانی آیت (The Satanic Verses) مصنف سلمان رشدی (42 سال) کو قتل کر دیں۔ اسی کے ساتھ ایرانی حکومت نے قتل کرنے والے کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا۔ ٹائمز آف انڈیا (17 فروری 1989) کے مطابق قتل کرنے والا اگر ایرانی ہے تو اس کو 26 لاکھ ڈالر ($ 2.6 million) دیے جائیں گے اور اگر قتل کرنے والا غیر ایرانی تو اس کو 10 لاکھ ڈالر ($ 1 million) ملے گا۔ ایران کے خود ساختہ لغت میں اسلام بھی ایرانی اور غیر ایرانی ہو گیا۔ 19 فروری کے اخبارات یہ خبر لائے کہ سلمان رشدی نے لندن میں ایک بیان جاری کر کے اس کے بارے میں معافی مانگ لی ہے۔ اس نے یہ کہا ہے کہ: "Living in world of many faiths, the experience had served to remind us that we must all be conscious of the sensibilities of others." اگلے دن 20 فروری 1989 کو دوبارہ اخبارات نے بتایا کہ ایران کے مذہبی پیشوا آیت اللہ خمینی نے اعلان کیا ہے کہ سلمان رشدی کو معافی مانگنے کے باوجود بخشا نہیں جائے گا۔ ٹائمز آف انڈیا (20 فروری) کے مطابق انھوں نے کہا: "Even if Salman Rushdie repents and becomes the most pious man, it is incumbent on every Muslim to employ everything he's got, his life and wealth , to send him to hell."

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page