رشدی کی کہانی
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
قومی آواز (23 فروری 1989) کی ایک خبر میں بتایا گیا کہ مزید خبروں کے مطابق سنی علماء بھی اس ایرانی جہاد میں مکمل طور پر شریک ہو گئے ہیں ۔ اردو روزنامہ قومی آواز (20 فروری 1989) کے مطابق ، دارالعلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ کے ناظم مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنے ایک بیان میں ایرانی پیشوا آیت اللہ خمینی کے فرمان کو حق بجانب قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مصنف نے مذہب اسلام کی سخت توہین کی ہے جس سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امام خمینی کے فرمان پر مسلمان پر مسلمان اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ مولانا ندوی نے کہا کہ اسلام میں پیغمبر اسلام کی توہین کے مجرم کو سزائے موت دی جاتی ہے ۔ مسلم علماء اور مفتی اس معاملے میں متفق ہیں (صفحہ 1)۔ اس کے بعد اخباری بیانات ، خطوط اور مضامین کا لمبا سلسلہ چل پڑا۔ ہر لکھنے اور بولنے والا مسلمان بڑھ چڑھ کر پر جوش الفاظ کا مظاہرہ کر رہا تھا اور سلمان رشدی کے قتل سے کم کسی چیز پر راضی نہ تھا۔ تاہم اس لفظی جہاد میں زیادہ تر ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان شریک تھے۔ لندن کی سڑکوں پر جو مظاہرے ہوئے اس کے پیچھے بھی انھیں ملکوں کے مسلمان شریک تھے۔ بقیہ مسلم دنیا نے اس نام نہاد جہاد میں کوئی قابل ذکر حصہ نہیں لیا۔ حتیٰ کہ آیت اللہ خمینی کو چھوڑ کر ، خود ایرانی قوم بھی بحیثیت مجموعی اس مہم میں شریک نہ ہوسکی۔ قومی آواز (23 فروری 1989) کی ایک خبر میں بتایا گیا کہ مکہ میں علماء اسلام کی ایک میٹنگ کے بعد رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ عمر نسیف نے ایک بیان میں کہا کہ سلمان رشدی مرتد ہے ، اور اسلام میں اس جرم کی سزا موت ہے۔ انھوں نے یہ اپیل کی کہ سلمان رشدی کی عدم موجودگی میں کسی اسلامی ملک میں مقدمہ چلایا جائے۔ ڈاکٹر نسیف نے کہا کہ رشدی نے اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے ، اس کو تحریر کی آزادی نہیں سمجھنا چاہیے ، بلکہ یہ ایک زبانی مجرمانہ حملہ ہے۔ سلمان رشدی مرتد ہے اور شریعت کے مطابق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader