شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
استعمال کیا ہے، وہ صلیبی جنگوں کے بعد کے دور میں یورپ میں وضع کیا گیا۔ مگر اس وقت علماء اسلام نے یہ فتویٰ نہیں دیا کہ جن لوگوں نے یہ گستاخانہ نام وضع کیا ہے، انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کر دیا جائے۔ ازدواج مطہرات کے خلاف جو بے ہودہ باتیں سلمان رشدی نے لکھی ہیں، اس کا مصنف اول مدینہ کا عبداللہ بن ابی تھا۔ مگر پیغمبر اسلام نے اصرار کے باوجود اس کو قتل کرنے سے منع کر دیا۔ اٹلی کے دانتے (1321-1265) نے ڈیوائن کامیڈی میں، نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ، نقل کفر کفر نباشد، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو جہنم میں دکھایا ہے۔ ترکی کی عثمانی سلطنت کا بانی سلطان عثمان غازی (1326-1258) دانتے کا ہم عصر تھا۔ مگر اس نے یہ فرمان جاری نہیں کیا کہ جو شخص دانتے کا سر کاٹ کر لائے گا اس کو سنہری سکہ انعام دیا جائے گا۔ شیکسپیئر (1616-1564) نے اپنے ڈرامے میں پیغمبر اسلام کو نعوذ باللہ جھوٹا رسول بتایا ہے۔ شاہ جہاں (1666-1592) شیکسپیئر کا معاصر تھا۔ مگر ہندوستان کے علماء نے شاہ جہاں سے یہ نہیں کہا کہ فوراً ایک یا زیادہ آدمی کو ہتھیار دے کر انگلینڈ بھیجو، تا کہ وہ وہاں پہنچ کر شیکسپیئر کو قتل کر دیں، وغیرہ وغیرہ۔ اس اعراض کی وجہ ماضی کے اہل ایمان یا سلاطین کی بے غیرتی نہ تھی۔ بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس قسم کی باتوں کو ” کتے کی بھونک “ سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کتا اگر ہاتھی پر بھونکے تو اس کا زیادہ بہتر اور کارگر جواب یہ ہے کہ ہاتھی اس کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جائے۔ مسلمہ عظمت قرآن کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود (17:79) پر کھڑا کیا گیا ہے۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ آپ کی نبوت علمی اور تاریخی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader