Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

کتاب کا مضمون

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے ان کے اوپر وہ سزا نافذ نہیں کی جس کا اعلان آج ایران کے شیعہ عالم اور ہندوستان کے سنی عالم مبینہ طور پر کر رہے ہیں۔ اگر اس جرم کی سزا لازمی طور پر وہی ہے جس کی موجودہ علماء وکالت کر رہے ہیں تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام کو مکہ میں اس کا نفاذ کرنا چاہیے تھا۔ مگر ثابت شدہ طور پر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ علماء کے اعلان کا ماخذ ان کی اپنی خواہشات ہیں، نہ کہ قرآن اور سنت۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک توہین آمیز نام محاؤنڈ (Mahound) کا استعمال کیا ہے۔ یہ نام بلا شبہ اشتعال انگیز حد تک لغو ہے۔ انگریزی میں ہاؤنڈ کا لفظ کتے کے لیے استعمال ہوتا ہے، "م" انگریزی لفظ مائی (My) کا مخفف ہے۔ اس طرح محاؤنڈ کا دوسرا مطلب (نعوذ باللہ، نقل کفر کفر نباشد) ہے میرا کتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ بے ہودہ نام سلمان رشدی کی ذاتی ایجاد نہیں۔ یہ کروسیڈ (1096-1271) کے بعد یورپ میں گھڑا گیا۔ یورپ کی مسیحی قومیں جب دوسوسالہ صلیبی جنگ میں مسلمانوں کے مقابلہ میں ناکام ہو گئیں تو انھوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کو بدنام کرنے کے لیے بہت سی پست حرکتیں کیں۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ انھوں نے آپ کے نام کو طرح طرح سے بگاڑا۔ ایک بگڑا ہوا نام یہ لفظ (Mahound) ہے۔ مگر پچھلے سات سو سال کے اندر اس گستاخی کی بنیاد پر کسی کو بھی قتل کی سزا نہیں دی گئی۔ اور نہ اس قسم کا فتوی جاری کیا گیا۔ سلمان رشدی نے جس کہانی کی بنیاد پر اپنی کتاب کا نام شیطانی آیات رکھا ہے، وہ کہانی سب سے پہلے 5 نبوی میں مکہ میں وضع کی گئی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان واضعین کو قتل نہیں کرایا۔ سلمان رشدی نے پیغمبر اسلام کے لیے جو گستاخانہ نام " محاؤنڈ"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page