Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

فرضی افسانہ

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

فرضی افسانہ سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (The Saltanic Verses) جو 547 صفحات پر مشتمل ہے، اس پر نیو یارک کے ہفت روزہ ٹائم (13 فروری 1989) میں تبصرہ شائع ہوا ہے۔ تبصرہ نگار مسٹر پال گرے (Paul Gray) کا کہنا ہے کہ کتاب کے خلاف مسلمانوں کے عوامی احتجاجات (Public protests) غیر ضروری تھے۔ راقم الحروف خود بھی اس قسم کے احتجاج اور شور و غل کو غیر ضروری سمجھتا ہے۔ کتنا اگر ہاتھی پر بھونکنے تو ہاتھی کتے پر نہیں بھونکتا۔ کیوں کہ ہاتھی کی عظمت بذات خود کتے کی ہر بھونک کا جواب ہے۔ اور جب چپ کی زبان کافی ہو تو بولنے کی زبان استعمال کرنے کی کیا ضرورت۔ تاہم اس سلسلہ میں تبصرہ نگار نے جو توجیہ کی ہے، اس تو جیہ سے مجھے اتفاق نہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ کتاب کے سوا اور کچھ نہیں کہ تاریخ کی جگالی (Rumination on history) ہے۔ بالفاظ دیگر، وہ اصلاً تاریخی واقعات پر مبنی ہے، اور جب ایسا ہے تو اس کے خلاف ہنگامہ اور احتجاج کیوں ۔ مگر مفروضہ بذات خود واقعہ کے مطابق نہیں کہ کتاب میں جو باتیں درج ہیں ان کی بنیاد کسی تاریخی واقعہ پر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اپنے اسلوب کے اعتبار سے بھی افسانہ ہے اور اپنی تاریخی بنیاد کے اعتبار سے بھی افسانہ۔ تبصرہ نگار لکھتے ہیں کہ کتاب میں جبریل اور محمد کے درمیان تبادلہ کلام، بظاہر بگڑے ہوئے اور خیالی انداز میں، ایک قصہ پر مبنی ہے جو محمد کی زندگی میں پیش آیا۔ پیغمبر ابتداء اس پر راضی ہو گئے کہ عرب کی تین دیویوں کا اعتراف قرآن میں شامل کر دیں، اور بعد کو انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ آیتیں شیطان کی الہام کی ہوئی تھیں۔ اگر محمد خود یہ اقرار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page