فرضی افسانہ
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے کے لیے تیار تھے کہ انہیں دھوکا دیا گیا ہے تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ قدیم گزرے ہوئے واقعہ کا مماسی (tangential) اور افسانوی بیان آج کیوں اتنے ہنگامہ کا سبب بن جائے: "The Gibreel-Mahound exchanges are based, in a distorted and hallucinatory manner, on an episode in the life of Muhammad—the Prophet's early willingness to include in the Quran an acknowledgement of three female deities and his later repudiation of these verses as satanically inspired. If Muhammad was willing to admit that he had been deceived, it is difficult to see why a tangential, fictional version of this long-ago event should cause such contemporary uproar." (p.42). اس اقتباس میں جس "واقعہ" کا ذکر ہے، وہ سورہ النجم سے تعلق رکھتا ہے۔ متعلقہ آیتیں حسب ذیل ہیں: أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ. وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ. أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَىٰ. تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى (53:19-22) ۔ یعنی، کیا تم نے لات اور عزئی کو دیکھا۔ اور تیسرے ایک اور منات کو۔ کیا تمہارے لیے بیٹے ہیں اور خدا کے لیے بیٹیاں۔ یہ تو بہت بے ڈھنگی تقسیم ہے۔ قدیم عرب میں تین بڑے بت تھے ۔ لات، عزی، اور منات۔ ان بتوں کو اس زمانہ میں بہت بڑی چیز سمجھا جاتا تھا۔ ان بتوں کی بڑائی بیان کرنے کے لیے لوگوں نے طرح طرح کے کلمات وضع کر رکھے تھے۔ یاقوت الحموی نے معجم البلدان میں لکھا ہے کہ قریش کعبہ کا طواف کرتے ہوئے یہ الفاظ کہا کرتے تھے : اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader