Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ایک مثال

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

1۔ دین کے معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں ، ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ پس جو شخص طاغوت (شیطان) کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، تو اس نے مضبوط حلقہ کو پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سننے والا ، جاننے والا ہے (2:256)۔ 2۔ پس تم لوگوں کو نصیحت کرو، تم صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ تم ان کے اوپر داروغہ نہیں ہو (88:21-22)۔ قرآن میں اس طرح کی بہت سی آیتیں ہیں جو واضح طور پر بتاتی ہیں کہ عقیدہ یا مذہب کا معاملہ تمام تر ذاتی ضمیر کا معاملہ ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ جس عقیدہ یا مذہب کو چاہے مانے اور جب چاہے اپنے ذاتی فیصلے سے اس کو بدل دے۔ مذہب کے معاملہ میں کسی پر کوئی زبردستی نہیں۔ مذہب کے معاملہ میں صرف تبلیغ ہے ، نہ کہ جبر۔ خلاصہ یہ کہ اسلامی قانون جارحیت کے موقع پر ہر شخص یا قوم کو اپنے دفاع (بچاؤ) کا حق دیتا ہے۔ مگر جہاں تک مذہبی آزادی کا تعلق ہے، وہ ہر ایک کے لیے مذہبی آزادی کا حق تسلیم کرتا ہے، ”قتال“ کے قرآنی حکم کا تعلق صرف پہلے معاملہ سے ہے، دوسرے معاملہ سے جنگ و قتال کا کوئی تعلق نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page