Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ایک مثال

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

جارحیت کی جائے اور وہ اپنے دفاع میں دوسرے شخص پر حملہ کرے تو یہ قانونی اعتبار سے اس کے لیے جرم نہیں ہوگا: "Nothing is an offence which is done in the exercise of the right of private defence." اب اگر کوئی شخص ان دفعات کو لے کر یہ کہنے لگے کہ ہندوستان کا قانون ہر آدمی کو کھلی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے خلاف جس کو چاہے مارنا شروع کر دے۔ تو ایسا شخص یقیناً غلطی کرے گا۔ کیوں کہ وہ خصوصی حکم کو عمومی حکم بنا رہا ہے۔ وہ دفاع کے حکم سے آزادی مذہب کا حکم نکال رہا ہے۔ ہندوستان کا قانون مذہبی آزادی کے معاملہ میں کیا ہے، اس کو پینل کوڈ (قانون فوجداری) سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے دستور ہند کی وہ دفع دیکھنی ہوگی جو بنیادی حقوق (fundamental rights) سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کو دیکھنے سے معلوم ہو گا کہ ہندوستان کے قانون نے مذہب کے معاملہ میں ہر آدمی کو پوری آزادی عطا کی ہے۔ اس کے مطابق، نہ کسی سے اپنی پسند کا عقیدہ رکھنے کا حق چھینلا جاسکتا اور نہ اس معاملہ میں کو مجبور کیا جاسکتا۔ مسٹر آرن شوری نے یہی غلطی قرآن کو سمجھنے میں کی۔ وہ قانونِ دفاع اور قانونِ مذہب کو ایک دوسرے میں گڈ مڈ کر رہے ہیں۔ انھوں نے قرآن سے ”قتال“ کی جو آیتیں نقل کی ہیں وہ سب دفاع کے مسئلہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ یعنی یہ کہ جارحیت کے وقت مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ۔ جہاں تک اس دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ مذہب کی آزادی کے بارے میں قرآن کا نقطہ نظر کیا ہے، اس سلسلہ میں مسٹر آرن شوری کو چاہیے کہ وہ قرآن کی آیتوں کا مطالعہ کریں جو خاص طور پر اس دوسرے مسئلہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ مثلاً:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page