Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

چند مثالیں

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے اس لغو قصہ کے ابتدائی مصنف مکہ کے مشرکین تھے۔ جب مکہ فتح ہوا تو ان مشرکوں کے اوپر آپ کو مکمل قابو حاصل ہو گیا۔ مگر آپ نے یہ اعلان نہیں فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے غرانیق کا جھوٹا قصہ گھڑا تھا، انھیں قتل کر کے اس سب کو جہنم رسید کر دو۔ اس کے برعکس، آپ نے ان سے فرمایا کہ : اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ (السنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر 18275)۔ یعنی، جاؤ تم سب آزاد ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں اسلام کی نظریاتی طاقت پر بھروسہ کیا، نہ کہ اسلام کی ششمتیری طاقت پر۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ اگرچہ آپ نے ان پر تلوار استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر اسلام کی نظریاتی طاقت نے ان کو مسخر کر لیا۔ ان کو آزادی دینے کے جلدی بعد وہ اسلام کے عقیدہ اور آپ کے اعلیٰ اخلاق سے اتنا متاثر ہوئے کہ کلمۂ اسلام کا اقرار کر کے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے خدا کی غلامی میں دے دیا۔ 2۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ماھونڈ (Mahound) لکھا ہے۔ یہ ایک استہزائی نام ہے۔ جس طرح بعض لوگ وہابی کو وہابیرا اور دیو بند کو دیو کے بندے وغیرہ وغیرہ کہتے ہیں۔ اس طرح سلمان رشدی نے آپ کے لیے اس بگڑے ہوئے نام کو استعمال کیا ہے جو صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کے عیسائیوں نے پیغمبر اسلام کے لیے گھڑا تھا۔ اس مجرمانہ حرکت کی مثال بھی زمانہ نبوت میں موجود ہے۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اگرچہ آپ کے دادا عبد المطلب نے محمد رکھا تھا، مگر مکہ کے قریش نے استہزائی طور پر آپ کا نام مذمّم رکھ دیا۔ محمد کے معنی ہیں تعریف کیا ہوا۔ جبکہ مذمّم کے معنی میں مذمت کیا ہوا۔ ابو لہب کی بیوی ام جمیل شاعرہ تھی۔ اس نے مذمّم کے لفظ کو لے کر شعر کہا تھا اور اس کو اس طرح پڑھا کرتی تھی:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page