چند مثالیں
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
مُّذَمَّمًا عَصَيْنَا ... وَأَمْرَهُ أَبَيْنَا ... وَدِينَهُ قَلَيْنَا (سیرۃ ابن ہشام ، جلد 1 ، صفحہ 356)۔ یعنی ہم نے ایک قابلِ مذمت شخص کی نافرمانی کی۔ اس کی بات کا انکار کیا اور اس کے دین سے نفرت کی۔ اس معاملہ میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے یہ فرمایا ہو کہ دیکھو فلاں لوگ میرا نام بگاڑ کر مجھ کو مذمم کہتے ہیں، ان سب کو قتل کر دو۔ اس کے برعکس جو ہوا، وہ تاریخ کے الفاظ میں یہ ہے: ابن اسحاق کہتے ہیں کہ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بگاڑ کر آپ کا نام مذمم رکھتے ہیں۔ اور پھر اسی نام سے آپ کو گالی دیتے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ فرماتے تھے کہ کیا تم لوگوں کو اس بات سے تعجب نہیں ہوتا جو اللہ نے قریش کی ایذارسانی کو مجھ سے پھیر دیا۔ وہ مجھ کو گالی دیتے ہیں اور مذمم کہہ کر میری ہجو کرتے ہیں۔ حالانکہ میں محمد (تعریف کیا ہوا) ہوں۔ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَكَانَتْ قُرَيْشٌ إِنَّمَا تُسَمِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُذَمَّمًا، ثُمَّ يَسُبُّونَهُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: أَلَا تَعْجَبُونَ لِمَا يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي مِنْ أَذَى قُرَيْشٍ، يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ (سیرۃ ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 356)۔ یہاں دوبارہ دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بگاڑ کر آپ کو اذیت پہنچائی جاتی ہے۔ مگر آپ اپنے اصحاب سے یہ نہیں کہتے کہ یہ لوگ ناقابلِ معافی جرم کے مجرم ہیں، ان سب کو ایک ایک کر کے قتل کر دو۔ اس کے برعکس آپ اپنے اصحاب کی توجہ قولِ انسانی سے ہٹا کر قولِ خداوندی کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ انسان اگر میری مذمت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader