Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

حکمت اعراض

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

درجہ کا مصنف ، اور اول درجہ کا کاغذ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی موت آپ مر جاتی۔ اس میں کسی قسم کی کوئی زندگی نہیں۔ یہ صرف مسلمانوں کا احمقانہ شور و غل ہے جس نے اس کو غیر ضروری طور پر زندہ کر دیا۔ اور نہ پڑھنے والے لوگ بھی اس کو خریدنے کی طرف مائل ہو گئے۔ اگرچہ ان خریدنے والے لوگوں کے ذوق کا یہ بہتر اندازہ ہو گا اگر ہم یقین کریں کہ وہ لوگ پوری کتاب کو پڑھنے کی مشقت بھی ضرور برداشت کریں گے۔ ٹائم میگزین کے ایک قاری (Margareta du Rietz) نے اس معاملہ پر بہترین تبصرہ کیا جو ٹائم (20 مارچ 1989) میں چھپا ہے۔ اس نے کہا کہ بہت ہی کم لوگوں نے اس ناول پر دھیان دیا تھا، خمینی کا شکریہ کہ آج وہ عالمی شہرت کی کتاب بنی ہوئی ہے: "Very few took note of this novel. Now, thanks to Khomeini, it is world famous." نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سلمان رشدی کی یہ کتاب امریکہ میں اس وقت سب سے زیادہ بکنے والی کتاب (best seller) بنی ہوئی ہے۔ کتاب کے پبلشر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم امام خمینی کا شکریہ ادا کرتے ہیں، کیونکہ وہ ہمارے سب سے بڑے سیلسمین (salesman) ثابت ہوئے ہیں۔ سلمان رشدی کے سلسلہ میں بے شمار چیزیں اخبارات و رسائل میں چھپ چکی ہیں، ایک خط جوڈبلیو ایم شیخ کے قلم سے تھا، اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے، یہ خط ٹائمز آف انڈیا (9 نومبر 1988) میں چھپا تھا۔ اس کا عنوان تھا— رشدی کو نظر انداز کرو: Ignore Rushdie "I have read various comments on Salman Rushdie's

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page