Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

حکمت اعراض

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

بظاہر حالات کو دیکھتے ہوئے، میرا احساس یہ ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب کے سلسلہ میں مسلمانوں کے مذہبی رہنما مذکورہ حکم الہی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب لکھ کر خود اپنے آپ کو ننگا کیا تھا۔ مگر اس کتاب کی اشاعت نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ موجودہ مسلمان دوسروں کو ’’جہنم رسید‘‘ کرنے کے لیے اتنے زیادہ بیتاب ہیں کہ انھوں نے یہ بات بھی بھلا دی ہے کہ انہیں سب سے پہلے اپنے آپ کو ’’جنت رسید‘‘ کرنے کی فکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس دنیا میں کوئی بھی شخص نہیں جس کی جنت لازمی طور پر خدا کے یہاں رزرو ہو چکی ہو۔ مذکورہ قرآنی حکم (49:6) کے مطابق، مسلم رہنماؤں پر لازم تھا کہ وہ پہلے اس معاملہ کی تحقیق کرتے اور پھر اس کے تمام پہلوؤں کو ذہن میں رکھ کر اس کے بارے میں مناسب کارروائی کا فیصلہ کرتے۔ مگر انھوں نے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے عجلت کا طریقہ اختیار کیا۔ اور فوری رد عمل کے تحت اس کے خلاف تیز و تند بیانات دیتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی کارروائیوں کا سارا فائدہ سلمان رشدی کے خانہ میں چلا گیا، اور اس کا سارا نقصان صرف اسلام کے حصہ میں آیا۔ مسلم رہنما اگر اس معاملہ کی تحقیق کرتے تو انہیں یہ معلوم ہوتا کہ سلمان رشدی کی کتاب اگر چہ نہایت بے ہودہ ہے، مگر اسی کے ساتھ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ کتاب نا قابل مطالعہ بھی ہے۔ وہ کوئی تخلیقی ناول (creative novel) نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فنی اعتبار سے وہ اتنی پست اور اتنی غیر دلچسپ ہے کہ وہ سرے سے اس لائق ہی نہیں کہ کوئی شخص اس کو شروع سے آخر تک پڑھ لے۔ مسٹر خوشونت سنگھ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے بجا طور پر کہا ہے کہ ناول کسی حیثیت سے بھی پڑھنے کے قابل نہیں۔ ایک اور انگلش جرنلسٹ مسٹر آرن شرمان نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تیسرے درجہ کا موضوع، دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page