Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

Islam, particularly during the aftermath of the Crusades, are filled with lies and clear defamation. Compared to those works, Mr. Rushdie's writings should not deceive us. He can be considered a mediocre writer and, at worst, an unremarkable wordsmith. If we ignore his book, I am confident it will disappear naturally." مسلم رہنما اگر اس معاملہ میں قرآنی حکم پر عمل کرتے، اور اقدام سے پہلے اس کے بارے میں غور و فکر کرتے تو یقیناً انہیں معلوم ہو جاتا کہ اس کتاب کے بارے میں صحیح ترین ردِ عمل وہ ہے جس کی رہنمائی خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے ایک قول میں ملتی ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ باطل کو ہلاک کرو، اس کے بارے میں چپ رہ کر: أُمِيْتُو البَاطِلَ بِالصَّمْتِ عَنْهُ (دیکھیے، حلیۃ الاولیاء للاصفہانی، جلد 1، صفحہ 55)۔ حضرت عمر کا قول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مذکورہ قول بہت با معنی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک چیز بظاہر یقینی طور پر ’’باطل‘‘ ہو، تب بھی یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے خلاف جنگ و قتال چھیڑ دیا جائے، اور اس کو ہلاک کرنے کے نام پر ہنگامہ کیا جانے لگے۔ باطل کو باطل جانتے ہوئے بھی بعض اوقات ضروری ہوتا ہے کہ اس کی طرف سے خاموشی اختیار کر لی جائے۔ باطل کو باطل ثابت کرنا اس کے حق میں زیادہ بڑا قتل ہے۔ باطل کو نظر انداز کرنے کا خاص فائدہ یہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کبھی ہلاک نہ کرنے ہی کا نام ہلاک کرنا ہوتا ہے۔ کبھی نظر انداز کرنا زیادہ بڑی سزا دینے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ مگر نادان لوگ اس راز کو نہیں جاتے۔ شور کی زبان کو سمجھنے والے چپ کی زبان کو نہیں سمجھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ اس وقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page