شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جو شخص تم کو توہین کرتا ہو نظر آئے ، اس کو فوراً قتل کرو ۔ قرآن میں کثرت سے ایذا رسانی کا ذکر ہے ، مگر اس قسم کا حکم کہیں بھی نہیں دیا گیا ہے ۔ اس کے برعکس قرآن میں کہا گیا ہے کہ ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو : وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ (43:48) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہانت اور ایذا رسانی کا جواب صرف یہی نہیں ہے کہ مجرم کو سزادی جائے۔ اس کا ایک کامیاب جواب یہ بھی ہے کہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا جائے۔ اس کے معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے اس کو قانون قدرت کے حوالہ کر دیا جائے۔ یہ اسلام کی عظیم الشان حکمت ہے ، یہی وہ خاص حکمت ہے جس کو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس طرح بیان کیا ۔ جہاں میری زبانی تنبیہ کافی ہو ، وہاں میں اپنی تلوار نہیں اٹھاتا ، اور جہاں میری خاموشی کافی ہو وہاں میں کلام نہیں کرتا: لَا أَضَعُ سَيْفِي حَيْثُ يَكْفِينِي سَوْطِي وَلَا أَضَعُ سَوْطِي حَيْثُ يَكْفِينِي لِسَانِي ۔ (غریب الحدیث لابن قتیبہ الدینوری، جلد 2 ، صفحہ 413) پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا مسلم رہنماؤں کو یہ جاننا چاہیے تھا کہ اس معاملہ میں ان کا اقدام کوئی سادہ اقدام نہیں ہے۔ یہ پوری مغربی دنیا کے "مذہب" پر براہ راست حملہ ہے۔ مسٹر ایڈورڈ مارٹیمر (Edward Mortimer) نے بجا طور پر کہا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کا مذہب اسلام ہے ، اسی طرح ہمارا مذہب آزادی (Freedom) ہے۔ مسلمان اپنے مذہب کی توہین یا اس پر حملہ سے جس طرح بپھر اٹھتے ہیں ، ہم کو بھی اسی طرح سخت تکلیف پہنچتی ہے جب کہ ہمارے مذہب (آزادی) پر حملہ کیا جائے ۔ مسلمانوں کے نزدیک اگر رسول کی بے حرمتی کلمہ کفر (Blasphemy) ہے تو ہمارے نزدیک آزادی کی بے حرمتی اتنی شدت سے کلمہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader