Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

آغازِ کلام

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

آغازِ کلام عمر بن عبدالعزیز (101-61ھ) بنو امیہ کے دور کے ایک صالح اور راشد مسلم حکمران تھے۔ ان کے زمانہ میں اسلام کی بہت اشاعت ہوئی۔ لوگ کثرت سے اپنے مذہب کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے لگے۔ عمر بن عبدالعزیز نے عمومی حکم جاری کر دیا کہ جو شخص اسلام قبول کرے، اس کے اوپر سے جزیہ کی رقم فوراً ساقط کر دی جائے۔ اس کے نتیجہ میں سرکاری بیت المال کی آمدنی کم ہوگئی۔ یہ اقتصادی نقصان دیکھ کر ایک عامل (گورنر) نے عمر بن عبدالعزیز سے کہا کہ جزیہ کی رقم ساقط کرنے کی وجہ سے لوگ جوق در جوق اسلام قبول کر رہے ہیں۔ اس طرح تو ہمارا بیت المال خالی ہو جائے گا۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ تمہارا برا ہو، اللہ نے محمد کو ہدایت دینے والا بنا کر بھیجا ہے، اس نے آپ کو محصّل بنا کر نہیں بھیجا: فَإِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا دَاعِيًا وَلَمْ يَبْعَثْهُ جَابِيًا (الطبقات الکبریٰ، جلد 5، صفحہ 384)۔ عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں ایسے مسلمان بہت تھوڑے ہوں گے جو پیغمبر اسلام کو محصّل (Tax-collector) سمجھتے ہوں۔ مگر موجودہ زمانہ میں تو بظاہر تمام مسلمان اسی سوچ کے ہو چکے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کے حالات بتاتے ہیں کہ اصاغر سے لے کر اکابر تک تمام مسلمان دعوت کے شعور سے خالی ہیں۔ عمر بن عبدالعزیز کے قول میں جو شعور دعوت تھا وہ شعور دعوت موجودہ زمانہ کے مسلمانوں، کم از کم ان کے معلوم و ممتاز افراد میں سے کسی میں بھی نہیں پایا جاتا۔ موجودہ زمانہ کے لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں کے پاس مسلمان کی حیثیت کو بتانے کے لیے جو الفاظ ہیں، وہ کیا ہیں۔ وہ ہیں خدائی فوجدار، محتسب کائنات، خلیفہ اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page