آغازِ کلام
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
فی الارض ، وغیرہ ۔ اس قسم کے تمام الفاظ بلاشبہ لغویت کی حد تک غیر اسلامی ہیں۔ قرآن میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تم صرف نصیحت کرنے والے ہو، تم لوگوں کے اوپر داروغه نہیں ہو: اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (88:21-22)۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے عملاً اس آیت کو الٹ دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہمارا کام صرف نصیحت اور وعظ کہنا نہیں ہے، بلکہ داروغه بن کر لوگوں کے اوپر حکمرانی کرنا ہے۔ یہی موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اس شعور سے خالی ہوگئے ہیں کہ وہ داعی ہیں اور دوسری قومیں ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے بجائے وہ اپنے آپ کو زمین پر خدا کا سیاسی نائب سمجھتے ہیں۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ زمین پر خدا کے گواہ ہیں: لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (2:143) ۔ ان کا کام یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی منصوبہ سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ انھیں خود حق پر قائم پرتاپ ہونا ہے، اور لوگوں کے درمیان حق کی پیغام رسائی کرنا ہے۔ اس کے سوا جو امور ہیں، ان سب کو انہیں اللہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ دعوت مومن کی شخصیت کی کلید ہے۔ یہی وہ شعور ہے جو دوسری قوموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کی تشکیل کرتا ہے۔ یہی ان کے تمام خارجی رویہ کو متعین کرتا ہے۔ چونکہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے دعوت کے شعور کو کھودیا ہے، اس لیے ان کا پورا خارجی رویہ بگڑ کر رہ گیا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر ایسی حرکتیں کرتے ہیں جن کا اسلام سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان نہ صرف یہ کہ دعوت کا کام نہیں کر رہے ہیں، بلکہ وہ مسلسل طور پر دعوت کو قتل کرنے میں مشغول ہیں۔ دوسری قوموں کو سیاسی حریف سمجھنا، ان کے مقابلہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader