Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

دور آزادی

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

brought up to think it primitive to fight over metaphysical beliefs but to think of fighting for freedom as something admirable. Of course, like other peoples, we practise this religion imperfectly, and not everyone takes it as seriously as journalists, the self-appointed priests or mullahs of the cult. But the idea of sentencing a writer to death for what he wrote is just as offensive to modern Western sensibilities as the idea that Christ might have liked to make love to Mary Magdalene or that the Prophet might occasionally have listened to Satan is to traditional Christian or Muslim ones." (By arrangement with the Financial Times) مضمون نگار نے جو کچھ کہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے: ہم اپنے آپ کو ایک مذہبی جنگ میں گھرا ہوا پاتے ہیں، نظریات کی جنگ ـــ برطانی لوگوں کے ردعمل سے ہمارے اندر بھی ہتک کا اتنا ہی احساس پیدا ہوتا ہے جتنا مسلمانوں کو "شیطانی آیات" نامی کتاب سے۔ کیونکہ اس کتاب کے خلاف ردعمل یکساں طور پر ہمارے مذہب پر حملہ ہے۔ "ہمارے مذہب" سے میری مراد عیسائیت نہیں ہے۔ عیسائیت اس معنی میں اب برطانیہ کا مذہب نہیں جس معنی میں اسلام ایران کا مذہب ہے۔ یہ مسیحیت نہیں جو کہ ہم کو ایک قوم کی حیثیت سے مجتمع کرتی ہو، کیونکہ عرصہ ہوا ہم اس کو اس اعتبار سے چھوڑ چکے ہیں۔ اس وقت برطانیہ کا مذہب، صحیح لفظ میں، آزادی ہے۔ اس مذہب کے بانی لاک، والٹییر، برک، ولکیز اور ٹام پین ہیں۔ امریکی دستور کے مصنفین اور حقوق انسانی کے منشور نے اس کی تشکیل کی ہے۔ ہماری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی ہے کہ ہم آزادی کی لڑائی کو ایک قابل تعریف کام سمجھیں۔ اس میں شک نہیں کہ دوسری قوموں کی طرح، ہم اس مذہب آزادی پر غیر معیاری انداز میں عمل کرتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page