Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

دور آزادی

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر چہ صحافی جو گویا اس مذہب کے پادری اور ملاّ ہیں ، ان کے سوا کوئی اس انحراف کو بہت سنجیدہ معنوں میں نہیں لیتا۔ مگر یہ تصور کہ ایک ادیب کو اس کی لکھی ہوئی چیز کی بنا پر قتل کر دیا جائے ، یہ جدید مغربی حساسیت کے لیے ویسا ہی تصور ہے جیسا کہ مسیحیوں کے لیے یہ تصور کہ مسیح ، مریم کے ساتھ جنسی تعلق قائم کریں یا مسلمانوں کے لیے یہ تصور کہ پیغمبر کے الہام میں کبھی کبھی شیطان کا القاء بھی شامل رہتا تھا۔ ایڈورڈ مارٹیمر کی بات جو اوپر نقل کی گئی ، وہ باعتبار واقعہ صد فی صد درست ہے۔ سلمان رشدی کے معاملہ میں نادان مسلمانوں نے جو ہنگامے کیے ، اس کے خلاف مغرب کے شدید ردِعمل کی وجہ یقیناً یہی ہے۔ جو لوگ اس معاملہ میں مغرب کے رویہ کو اسلام دشمنی یا اسلام کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں۔ وہ صرف اپنی جاہلانہ بے بصیرتی کی خبر دے رہے ہیں ، نہ کہ کسی حقیقت واقعہ کا اعلان کر رہے ہیں۔ جو لوگ حقیقتوں کو اتنا کم جانیں ، ان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان بند رکھیں ، نہ کہ سطحی الفاظ بول کر غیر ضروری طور پر عوام کا ذہن خراب کریں۔ اس طرح کے معاملات کو مغرب کی ’’ اسلام دشمنی ‘‘ بتا کر لفظی شور کرنے کا فائدہ کچھ نہیں ، البتہ اس کا نقصان یقینی ہے۔ اگر بالفرض یہ دشمنی کا معاملہ ہو تو اخباروں اور جلسوں میں الفاظ کی چیخ پکار کرنے سے اس میں ایک فی صد بھی کمی آنے والی نہیں۔ البتہ اس کا یقینی نقصان ہے کہ مسلمانوں کا دل بغض وانتقام سے بھر جائے۔ مدعو قوموں کے بارے میں ان کے اندر وہ ناصحانہ جذ بہ باقی نہ رہے جو داعی کی حیثیت سے ان سے مطلوب ہے۔ دعوت کا تقاضا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان کشیدگی کی فضا نہ ہو۔ مگر اس قسم کے ہنگاموں نے مسلمانوں اور دوسری قوموں کے تعلق کو دعوت کے بجائے عداوت کی بنیاد پر قائم کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چپ رہنا بھی ایک کام ہے ، جس طرح بولنا ایک کام ہے۔ بولنے کے موقع پر نہ بولنے والا اگر گونگا شیطان ہے ، تو نہ بولنے کے موقع پر بولنے والا ناطق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page