Urdu book · صراطِ مستقیم

دینی تعلیم

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کو ماننا خدا ہر قسم کی خوبیوں کا خزانہ ہے۔ اس کی قدرت کہیں روشنی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے اور کہیں حرارت کی صورت میں۔ کہیں وہ مادہ کو ہریالی میں تبدیل کر رہا ہے اور کہیں پانی کی روانی میں۔ کہیں وہ رنگ کی صورت میں اپنا جلوہ دکھا رہا ہے اور کہیں مزہ اور خوشبو کی صورت میں۔ کہیں اس کی قدرت سے حرکت کے کرشمے ظاہر ہو رہے ہیں اور کہیں کشش کے کرشمے۔ ایسے کمالات والے خدا کو پانا ایک خشک عقیدہ کو پانا نہیں ہو سکتا۔ ایسے خدا کو پانا یہ ہے کہ آدمی کی روح ایک اٹھاہ روشنی سے جگمگا اٹھے۔ وہ اس کے قلب کے لئے لطف و لذت بن جائے۔ آدمی ایک اچھا پھل کھاتا ہے تو باغ باغ ہو جاتا ہے۔ وہ ایک لطیف نغمہ سنتا ہے تو ہمہ تن وجد میں آجاتا ہے۔ پھر خدا جو ساری خوبیوں کا سر چشمہ ہے اس کا پانا کیا کسی کو بے قرار نہیں کرے گا۔ خدا کو پانا یہ ہے کہ وہ ایک خوشبو ہو جس سے آدمی کا شامہ معطر ہو جائے۔ وہ ایک مزہ ہو جس سے اس کا ذائقہ لطف پائے۔ وہ ایک حسن ہو جو اس کی بصارت کو ایک حیرت ناک نظارہ میں محو کر دے۔ وہ ایک ترنم ہو جو اس کے سامعہ کو ایسی لذت دے جس سے وہ کبھی سیر نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جس خدا نے یہ تمام خوبیاں پیدا کی ہیں وہ خود ان خوبیوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ کسی کو خدا کی قربت ملنا دراصل اس کا جنت میں پہنچ جانا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص رنگ اور خوشبو کے ابدی چمنستان میں جا بسے، جیسے وہ ایک پیکر نور کے پڑوس میں پہنچ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page