دینی تعلیم
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت قربت الہی کا نام ہے آخرت میں خدا کی جنت کو وہی شخص پائے گا جس نے دنیا میں خدا کو پا لیا ہو۔ خدا کو پانے والا وہ ہے جس نے چھپے ہونے کے باوجود اس کو یقین کی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ جس نے اپنے سینہ کی دھڑکنوں میں اس کو بولتے ہوئے سنا ہے۔ جس نے خدا کی کتاب کو اس طرح پڑھا ہے گویا وہ خود اپنے اندر رکھے ہوئے صحیفہ فطرت کو اپنی زبان سے دہرا رہا ہے۔ خدا کو پانے والا وہ ہے جس کی مردہ روح کو خدا کے ایماں سے زندگی ملی ہو۔ خدا کی یاد جس کے دل کے زنگ کو دور کرنے والی بن جائے ۔ خدا جس کے لئے ایک نور بن گیا ہو جس کی روشنی میں وہ چلتا ہو۔ جس کا یہ حال ہو کہ خدا کا ذکر سن کر اس کا دل دہل اٹھے ۔ وہ اپنے آنسوؤں سے خدا کا استقبال کرتا ہو۔ اس کی پوری شخصیت خدا کے آگے ہمہ تن سجدہ میں گر پڑی ہو۔ جو شخص خدا سے قریب ہے وہی جنت سے بھی قریب ہے۔ خدا کی قربت کا آغاز اسی موجودہ دنیا سے شروع ہو جاتا ہے اور اس کی تکمیل آخرت میں ہوتی ہے۔ جب آدمی قربت خداوندی کا تجربہ کرتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ ایک ان دیکھی حقیقت کو کامل یقین کے ساتھ دیکھ رہا ہے ۔ ایک بعید ترین چیز سے انتہائی طور پر قریب ہے۔ کسی مخاطب کی موجودگی کے بغیر کامیاب ترین گفتگو میں مصروف ہے۔ ایک سب سے زیادہ پر ہیبت وجود کے لئے اپنے اندر سب سے زیادہ محبت کے جذبات پا رہا ہے۔ ایک چیز جس کو بظاہر کسی بھی واسطہ کے ذریعہ پایا نہیں جاسکتا کسی واسطہ کے بغیر وہ عین اس کے نزدیک پہنچ گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader