دینی تعلیم
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
رزق کا دسترخوان کائنات مومن کے لئے رزق روحانی کا دستر خوان ہے ، ویسے ہی جیسے جنت اس کے لئے رزق مادی کا دستر خوان ہوگی۔ ہوا کے لطیف جھونکے جب اس کے جسم کو چھوتے ہیں تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لمس خداوندی کا کوئی حصہ اس کو مل رہا ہے۔ دریاؤں کی روانی میں اس کو رحمت حق کا جوش ابتا ہوا نظر آتا ہے۔ چڑیوں کے چہچہے جب اس کے کانوں میں رس گھولتے ہیں تو اس کے دل کے تاروں پر ربانی نغمے جاگ اٹھتے ہیں۔ جس آدمی کو ایمان کی نظر حاصل ہو جاتی ہے اس کو دنیا کی ہر چیز میں خدا کی جھلکیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ درخت معمولی لکڑی کا ڈھانچہ ہے۔ مگر اس کے اوپر بے حد حسین پھول اگتے ہیں۔ وہ بظاہر ایک سوکھی لکڑی کی مانند ، اس سے بھی زیادہ ایک سوکھی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک خاموش انقلاب آتا ہے۔ اس کی شاخوں پر نہایت خوبصورت پھول کھل اٹھتے ہیں۔ لکڑی کی شاخیں رنگین پھولوں سے ڈھک جاتی ہیں۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ کوئی بندہ اس کو دیکھ کر کہہ اٹھے کہ خدایا ، میں بھی ایک لکڑی ہوں ، تو چاہے تو میرے اوپر حسین پھول کھلا دے۔ میں ایک ٹھنڈھ ہوں ، تو چاہے تو مجھ کو سر سبز و شاداب کر دے۔ میں ایک بے معنی وجود ہوں ، تو چاہے تو میری زندگی کو معنویت سے بھر دے۔ میں جہنم کے کنارے کھڑا ہوں تو چاہے تو مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔ میں تجھ سے دور ہوں تو چاہے تو لپک کر مجھ کو اپنے آغوش میں اٹھائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader