Urdu book · صراطِ مستقیم

سچا راستہ

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

ماحول سے بلند ہو کر سوچتا ہے تبھی وہ سمجھ سکتا ہے کہ کوئی بالا تر مقصد ہے جس کو اسے اپنی زندگی کا مرکز و محور بنانا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے متحرک کرنے والی چیز یہ نہیں ہے کہ اپنی یا دوسرے کی مادی ضرورتیں پوری کی جائیں۔ اس میں نہ عابد کی اپنی خواہشات کی تکمیل رہنما ہوتی ہے اور نہ معبود کی خواہشات کی تکمیل ۔ بلکہ یہ مقصد ان سب سے بلند تر ایک نشانہ آدمی کو دیتا ہے ۔ یہ ایک ایسا نشانہ ہے جو نہ اندرونی تقاضے کے تحت وجود میں آنا اور نہ بیرونی دباؤ کے تحت۔ بلکہ وہ خالصہ تصوری فکر کے تحت بنتا ہے ۔ جب ایک شخص کاروبار کرتا ہے ، روپیہ کماتا ہے ، مکان تعمیر کرتا ہے ، معیار زندگی بڑھانے میں اپنی قوتیں لگا دیتا ہے ، عمدہ سواری ، عمدہ مکان ، عمدہ فرنیچر ، عمدہ لباس ، عمدہ دسترخوان کا اہتمام کرتا ہے تو بظاہر وہ ایک مقصد میں لگا ہوا ہے مگر ایسی زندگی کو با مقصد زندگی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انسان کی امتیازی حیثیت اس طرح کے کسی مقصد میں پوری طرح نمایاں نہیں ہوتا ۔ بظاہر اس طرح کی زندگی میں بھی آپ کا ارادی فکر کام کرتا ہے لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو اس راہ میں جس چیز نے آپ کو ڈالا ہے وہ اپنے آخری تجزیے میں وہی داعیہ ہے جو ایک حیوان کو مختلف شکلوں میں متحرک کرتا ہے ۔ یعنی خواہشات کا زور ، ضروریات کا دباؤ ، اندرونی تقاضوں کی تکمیل کا احساس ۔ حقیقتاً اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں جو آپ کی معاشی زندگی میں آپ کی رہنمائی کر رہی ہو۔ آدمی جب بڑا ہوتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی کچھ مادی ضرورتیں ہیں جن کو حاصل کئے بغیر وہ زندگی نہیں گزار سکتا، اسے کھانے کی ، کپڑے کی ، مکان کی ضرورت ہے اسے ایسے قابل اعتماد ذریعہ معاش کی ضرورت ہے جس سے آخر وقت تک وہ گزر سکے یہ چیز نظری طور پر اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کرے۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر وہ دیکھتا ہے کہ یہ چیزیں جس کے پاس افراط کے ساتھ ہوتی ہیں اس کی عزت ہوتی ہے ۔ وہ ہر قسم کی خوشیوں اور لذتوں کو حاصل کرنے میں کامیاب رہتا ہے ۔ اس کی بات بلا دلیل مان لی جاتی ہے ، کوٹھی اور موٹر اور بینک بیلنس اس کو وہ سب کچھ دیدیتے ہیں جس کی کوئی شخص اس دنیا میں تمنا کر سکتا ہے ، یہ حالات اور یہ مشاہدہ اسے اکساتا ہے کہ وہ صرف ضروری معاش کے حصول پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر زیادہ سے زیادہ کمانے کی فکر کرے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page