Urdu book · صراطِ مستقیم

سچا راستہ

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

بازاروں کی پہل پہل ، دفتروں کی شان و شوکت اور بلند نگوں کے پرکشش مناظر جن میں ہم انسان کو سرگرم دیکھتے ہیں ، حقیقتہً وہاں ان کے سوچے سمجھے فکر نے ان کی رہنمائی نہیں کی ہے۔ بلکہ ان کی ضرورتیں ان کی خواہشیں ان کی امنگیں اور دنیا میں با عزت اور سر بلند جگہ حاصل کرنے کے بارہ میں ان کے حوصلوں نے ان کی رہنمائی کی ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کو وہ مقصد نہیں قرار دیا جا سکتا جو انسانی شرف کی اعلیٰ ترین منزل ہے ۔ انسان کا اعلیٰ ترین شرف کوئی ایسا مقصد ہی ہو سکتا ہے جو حقیقتہً خالص غور و فکر کے نتیجہ میں وجود میں آیا ہو۔ جو اندرونی خواہشوں اور ماحول کے دباؤ کے نتیجہ میں وقوع پذیر نہ ہوا ہو ۔ یہ مقصد ” خدا کی رضا جوئی “ کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا ۔ جب آدمی خدا کی رضا کو اپنا مقصد بناتا ہے تو یہاں اس کے انسانی اوصاف پوری طرح جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہ ان تمام چیزوں سے بلند تر ایک مقصد ہے، جس میں کوئی حیوان مصروف ہے۔ اس مقصد کو اختیار کر کے انسان فی الواقع تمام حیوانات سے مختلف ہو جاتا ہے ، یہ انسانی شرف کی آخری انتہا ہے ۔ زندگی کا مقصد، ایک لفظ میں ، زندگی کو بامعنیٰ بنانے کی کوشش ہے۔ زندگی کو بامعنیٰ بنانے کا منصوبہ ہمیشہ اس فرد کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے جس کی زندگی کو بامعنیٰ بنانا مطلوب ہے۔ مثلاً بھیڑوں اور بکریوں کے گلہ کو بامعنیٰ بنانا ہو، یا گایوں اور بھینسوں کو بامعنیٰ بنانے کا سوال ہو تو اس کا منصوبہ حیوانی سطح پر بنے گا ۔ جیسا کہ ہم عام طور پر اس قسم کے منصوبوں میں دیکھتے ہیں۔ مگر انسان کا مقصد متعین کرنا ، بالمشافہ دیگر ، انسان کی ہستی کو بامعنیٰ بنانا ایک انسانی منصوبہ ہے نہ کہ حیوانی منصوبہ ۔ ایسے منصوبہ کو یقینی طور پر ایسا ہونا چاہئے جو انسان کی امتیازی حیثیت کے عین مطابق ہو۔ جو انسان کو اس کی اصل خصوصیت کے اعتبار سے ترقی اور کامیابی کے مقام کی طرف لے جانے والا ہو۔ خدا کا عابد بننا اپنی حیثیتِ واقعی کا اعتراف کرنا ہے ، اور اپنی حیثیتِ واقعی کا اعتراف ہی انسان کا سب سے بڑا مقصد ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page