Urdu book · صراطِ مستقیم

آغاز کلام

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

آغاز کلام سورج اپنے روشن چہرہ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور انسان کے اوپر اس طرح چمکتا ہے جیسے وہ کوئی پیغام سنانا چاہتا ہو۔ مگر وہ کچھ کہنے سے پہلے ڈوب جاتا ہے۔ درخت اپنی ہری بھری شاخیں نکالتے ہیں، دریا اپنی موجوں کے ساتھ رواں ہوتا ہے۔ یہ سب بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ مگر انسان ان کے پاس سے گزر جاتا ہے، بغیر اس کے کہ ان کا کوئی بول اس کے کان میں پڑا ہو۔ آسمان کی بلندیاں، زمین کے مناظر سب ایک بہت بڑے ’’اجتماع‘‘ کے شرکا معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ان میں سے ہر ایک خاموش کھڑا ہوا ہے۔ وہ انسان سے ہم کلام نہیں ہوتا۔ کائنات کیا گونگے شاہکاروں کا ایک عظیم عجائب خانہ ہے۔ نہیں۔ یہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس خدا کا ایک پیغام ہے اور اس کو وہ ابدی زبان میں نشر کر رہا ہے۔ مگر انسان دوسری آوازوں میں اتنا کھویا ہوا ہے کہ اس کو کائنات کا خاموش کلام سنائی نہیں دیتا۔ پیغمبر اسی بے الفاظ خدائی کلام کو الفاظ دیتا ہے۔ وہ خاموش پیغام کو ہمارے لئے سننے کے قابل بناتا ہے۔ پیغمبر بتاتا ہے کہ خدا کا وہ دین کون سا ہے جو اس کو انسان سے بھی مطلوب ہے اور بقیہ کائنات سے بھی۔ پیغمبر کے لائے ہوئے اس دین کی بنیاد قرآن پر ہے جو خدا کی طرف سے عربی زبان میں اتارا گیا ہے۔ پھر اس کتاب کی مزید وضاحت سنت سے ہوتی ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات کی صورت میں کتابوں کے وسیع ذخیرہ میں مرتب ہو کر موجود ہے۔ جو شخص سنجیدگی کے ساتھ اس کو جاننا چاہتا ہو اس کو چاہئے کہ ان کتابوں کو پڑھے کیونکہ یہی وہ کتابیں ہیں جو دین خداوندی کو سمجھنے کے لئے اصل ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جو لوگ ان کتابوں کے پورے ذخیرے کے مطالعہ کا وقت نہ رکھتے ہوں ان کے لئے کم سے کم مختصر نصاب ذیل میں درج کیا جاتا ہے: قرآن مجید سیرۃ نبوی از حافظ ابن کثیر مشکوۃ المصابیح حیاۃ الصحابہ از مولانا محمد یوسف کاندھلوی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page