حصہ اول تمہید
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
قدر استعمال کسی چیز کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ انسان کی ایک ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ مارکس کے نزدیک ارتقا یافتہ انسانی سماج ایسا ہی ہوگا۔ یہی وہ سماج ہے جس کو مارکس کمیونسٹ سماج کہتا ہے۔ اگر کسی سماج میں جنس کی صرف قدر استعمال دیکھی جانے لگے تو وہاں جنس کی قدر تبادلہ اور قدر اصل دونوں ختم ہو چکے ہوں گے۔ ایسے سماج میں افراد چیزوں کو اپنی استعمالی قیمت کے اعتبار سے دیکھیں گے نہ کہ ان کی اصلی قیمت یا تبادلی قیمت کے اعتبار سے۔ ایسے سماج میں انسان عین اس طرح چیزوں کا تبادلہ کریں گے جس طرح دو چھوٹے بچے آپس میں چیزوں کو بدل لیتے ہیں۔ مثلاً ایک بچے کے پاس ضرورت سے زائد ایک نارنگی ہے اور دوسرے کے پاس ضرورت سے زائد گاڑی۔ نارنگی والا بچہ گاڑی چاہتا ہے اور گاڑی والا بچہ نارنگی۔ چنانچہ یہ دونوں بچے بے نیازانہ طور پر آپس میں تبادلہ کر لیں گے۔ اس مثال میں دونوں بچوں کے سامنے نارنگی اور گاڑی کی صرف قدر استعمال ہے۔ اگر یہ بچے قدر اصل اور وقتِ در تبادلہ کو دیکھتے تو معاملہ مختلف ہوتا۔ پھر یہ ہوتا کہ جس بچے کے پاس گاڑی تھی وہ یہ مطالبہ کرتا کہ چار درجن نارنگیاں لادو تب میں تم کو گاڑی دوں گا۔ جس سماج میں جنس کو صرف قدر استعمال کے اعتبار سے دیکھا جائے اس سماج میں اشیاء کا تبادلہ اس طرح ہوگا جیسا کہ مذکورہ بچوں نے کر لیا۔ مارکس کے نزدیک ان بچوں اور کمیونسٹ سماج کے تبادلۂ اجناس میں صرف یہ فرق ہے کہ بچوں نے یہ تبادلہ غیر شعوری طور پر کیا جب کہ کمیونسٹ سماج میں ایک خاص اقتصادی، سیاسی اور اخلاقی ماحول میں یہ تبادلہ شعوری طور پر ہوگا۔ سماج کی ان تینوں قسموں کی تشریح دوسرے الفاظ میں اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ جس سماج میں چیزوں کا لین دین نفع کی غرض سے ہو وہ سرمایہ دارانہ سماج ہے۔ جس سماج میں کوئی شخص کسی سے نفع کا طالب نہ ہو اور ہر شخص کو اس کی محنت کے بعد پورا معاوضہ ملے وہ سوشلسٹ سماج ہے۔ اور جہاں آدمی ان دونوں چیزوں سے بلند ہو جائے، جہاں نہ تو ایسا ہو کہ آدمی ایک دوسرے سے نفع حاصل کرنا چاہے، نہ یہی ضروری ہو کہ کوئی شخص جتنا کرے اتنا ہی وہ اپنے لئے پائے۔ بلکہ ہر شخص کو کسی رکاوٹ کے بغیر اس کی ضرورت کی چیزیں حسبِ خواہش اس طرح ملتی رہیں جیسے آج ہوا اور پانی مل رہے ہیں۔ یہی آخری سماج کمیونسٹ سماج ہے جو مارکس کے تجزیہ کے مطابق انسانی سماج کے ارتقا کی بلند ترین منزل ہے۔ یہ ایسا سماجی نظام ہے جس میں چیزوں کی صرف قدر استعمال دیکھی جائے گی اور اسی نقطۂ نظر سے افراد مختلف جنسوں کا آپس میں تبادلہ کریں گے۔ ایک چیز کے بدلے دوسری چیز لیتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کس نے کتنی محنت خرچ کی ہے اور اس کو اپنی محنت کا کتنا معاوضہ مل رہا ہے۔ تمام تبادلے صرف استعمالی ضرورت کے پیش نظر ہوں گے نہ کہ نفع طلبی یا معاوضۂ خدمت کے طور پر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader