حصہ اول تمہید
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
مارکس کے نزدیک یہ تینوں قسم کے سماج معاشی اسباب کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔ انسانی سماج کو قائم رکھنے کے لئے بہت سی مادی چیزوں کی ضرورت ہے۔ یہ چیزیں سماج کے تمام لوگ مل جل کر تیار کرتے ہیں۔ کوئی شخص ایک کام کرتا ہے اور کوئی دوسرا کام۔ مگر کسی آدمی کی ضرورت صرف وہی ایک چیز نہیں ہوتی جو اس نے خود بنائی ہے۔ وہ اپنی زندگی کے لئے اس کے سوا بہت سی دوسری چیزوں کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ہر آدمی اپنی پیداوار کا ایک حصہ دوسرے کو دے کر اس سے وہ چیز حاصل کرے جس کو وہ خود نہیں بنا سکتا تھا۔ اس طرح سماج کے مختلف افراد میں باہمی لین دین وجود میں آتا ہے۔ اور اسی لین دین سے وہ اجتماعی زندگی پیدا ہوتی ہے جس کو سماج کہا جاتا ہے۔ مارکس کے نزدیک سماج اس کے سوا کسی چیز کا نام نہیں کہ وہ باہمی لین دین کی اجتماعی تشکیل ہے۔ مارکسی نقطہ نظر کے مطابق، کسی سماج کے بارے میں یہ معلوم کرنے کے لئے کہ وہ ترقی کے کس مرتبہ پر ہے، یہ دیکھنا چاہئے کہ وہاں لین دین کس طرح ہوتا ہے۔ اس کے نزدیک اس لین دین کی تین صورتیں ہیں : قدر تبادلہ (Exchange value) قدر اصل (Intrinsic value) قدر استعمال (Use value) قدر تبادلہ کسی چیز کی وہ قیمت ہے جو سپلائی اور مانگ کے دو طرفہ تقاضوں سے متعین ہوتی ہے چونکہ مختلف اسباب سے کبھی بازار میں چیز زیادہ ہوتی ہے اور مانگ کم اور کبھی چیز کم ہوتی ہے اور مانگ زیادہ۔ اس بنا پر قدر تبادلہ ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔ ایک ہی چیز کبھی کم قیمت پر ملتی ہے اور کبھی زیادہ قیمت پر۔ جس سماج میں چیزوں کا لین دین قدر تبادلہ کے اعتبار سے ہو وہ مارکس کی نظر میں سرمایہ دارانہ سماج ہے۔ قدر اصل کسی چیز کی وہ واقعی قیمت ہے جو انسانی محنت کی بنا پر اس کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ مارکس کے تجزیہ کے مطابق چوں کہ کسی چیز کا خام مادہ ہمیشہ یکساں قیمت کا ہوتا ہے اور اسی طرح وہ انسانی محنت بھی یکساں ہوتی ہے جو خام مادہ کو بنی ہوئی چیز میں ڈھالنے کے لئے درکار ہوتی ہے۔ اس بنا پر ہر چیز اپنی قدر اصل کے اعتبار سے ایک ہی قیمت رکھتی ہے۔ باعتبار حقیقت، اس میں نہ نکی کا امکان ہے نہ زیادتی کا۔ جس سماج کا نظام تبادلہ قدر اصل کی بنیاد پر قائم ہو اس کو مارکس سوشلسٹ سماج کہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader