سرخ جنت
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ روس میں بھی اسی طرح محنت کش طبقہ سے "قدر زائد" وصول کیا جاتا ہے جس طرح سرمایہ دار ملکوں میں وصول کیا جاتا ہے۔ مارکس نے قدر زائد کے نظریہ سے یہ ثابت کیا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں افلاس کا پیدا ہونا لازمی ہے، اگر اس نظریہ کو صحیح مانا جائے تو روس میں نظریاتی طور پر خوشحالی کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اور اگر یہ حقیقت ہے کہ روس میں معاشی خوشحالی پائی جاتی ہے تو لازمی طور پر مارکس کے قدر زائد کے نظریہ کو غلط تسلیم کرنا پڑے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ ماننا پڑے گا کہ پیداوار اور تقسیم کے سرمایہ دارانہ طریقے کے تحت بھی خوشحال معاشی نظام وجود میں آتا ہے، یعنی اس نظام کے تحت جو غیر اشتراکی ملکوں میں قائم ہے۔ روس میں اب تک جو کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے وہ روسی دستور کی دفعہ ۱۲ میں اس طرح ظاہر کیا گیا ہے: "سوویٹ یونین میں ہر شہری کے لئے جو کام کر سکتا ہے، کام کرنا ایک ڈیوٹی ہے اور عزت کی چیز ہے" اس اصول کے مطابق کہ جو کام نہ کرے وہ کھانا بھی نہ کھائے۔" سوویت یونین میں سوشلزم کا اصول رائج ہے، یعنی "ہر شخص سے اس کی قابلیت کے مطابق کام لیا جائے اور ہر ایک کو اس کے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے"۔ اس حاصل کو طریق حصول کی اس بحث کے ساتھ ملا کر دیکھیے جس کی تفصیل ہم نے اوپر کی ہے اور پھر فیصلہ کیجئے، کیا موجودہ سرمایہ دارانہ نظام سے کچھ بھی مختلف چیز ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں آدمی اسی وقت کسی معاوضہ کا مستحق ہوتا ہے جب وہ کوئی کام کرے، کام نہ کرنے کی صورت میں اسے کچھ نہیں مل سکتا۔ ٹھیک یہی صورتِ حال مزدوروں کی جنت میں بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں آدمی اپنی استعداد کار کے مطابق معاوضہ کا مستحق ہوتا ہے، معمولی کارکن کو معمولی اُجرت دی جاتی ہے اور اعلی صلاحیت کے کارکن کو زیادہ اُجرت اور آسانیاں حاصل ہوتی ہیں۔ ٹھیک یہی صورتِ حال مزدوروں کی جنت میں بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں کسی کارخانہ کی ساری آمدنی صرف اس کے کارکنوں کو نہیں دی جاتی بلکہ منافع کے نام سے ایک کثیر رقم اس کے مالک اور منتظم وصول کرتے ہیں۔ ٹھیک یہی صورتِ حال مزدوروں کی جنت میں بھی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ منافع نجی مالک وصول کرتے ہیں اور اشتراکی نظام میں حکومت کے عہدیدار ۔ پھر اشتراکی نظام اور سرمایہ دارانہ نظام میں فرق کیا ہوا۔ جب اشتراکی ملکوں میں بھی مزدور کو اس کی پوری مزدوری نہیں دی جاتی بلکہ اس کی محنت کی کمائی کا ایک حصہ "منافع" کے نام سے مسلسل اسی طرح وصول کیا جا رہا ہے جس طرح سرمایہ دار ممالک میں وصول کیا جاتا ہے تو آخر یہ خوشحالی آئی کہاں سے۔ جو صورتِ حال سرمایہ دار ملکوں میں افلاس پیدا کرتی ہے اور طبقاتی امتیاز کا سبب بنتی ہے ٹھیک وہی صورتِ حال نام نہاد اشتراکی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader