Urdu book · سوشلزم اور اسلام

سرخ جنت

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لئے اس طرح کی آمدنی کو معاشی اعتبار سے عین درست سمجھتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر کوئی نظام چلایا ہی نہیں جاسکتا۔ مگر قدر زائد کے نظریے کے مطابق تو یہ بالکل اسی لوٹ کی بدلی ہوئی شکل ہے جو تمام سرمایہ دار ملکوں میں جاری ہے۔ یہ مارکسی نظریہ کی رو سے ایک نظام استحصال کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا نظام استحصال قائم کر دینا نہیں تھا اور کیا ہے۔ پھر جب اشتراکی ملکوں میں بھی محنت کی لوٹ کا بعینہ وہی عمل جاری ہے جو سرمایہ دار ممالک میں ہے تو آخر یہ معاشی خوشحالی آئی کہاں سے۔ کیا کمیونسٹ حضرات اس کی کوئی نظریاتی توجیہہ کر سکتے ہیں۔ اوپر جو حقیقت میں نے درج کی ہے اس کو سامنے رکھنے تو معلوم ہوگا کہ اشتراکیت معاشی اعتبار سے مغربی سرمایہ دارانہ نظام کی کاربن کاپی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ صرف عنوان بدل دیا گیا ہے۔ ساری مار دھاڑ کے بعد بھی وہ اس پیداواری نظام سے ایک انچ آگے نہیں بڑھے ہیں جو سرمایہ دار ملکوں میں پہلے سے جاری ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ روس میں کارخانوں وغیرہ سے جو منافع حاصل کیا جاتا ہے وہ کسی سرمایہ دار کی جیب میں نہیں جاتا بلکہ وہ حکومت کو ملتا ہے اور وہاں سے باقاعدہ منصوبہ کے تحت مختلف اجتماعی مقاصد میں صرف کیا جاتا ہے۔ چنانچہ سرکاری ذرائع سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں اس کے مطابق سودیت روس میں کارخانوں سے حاصل شدہ منافع کی تقسیم کا اصول یہ ہے کہ ۵۰ فی صد سرکاری خزانے میں داخل ہوتا ہے، ۸۰ فیصد مزدوروں اور کاریگیروں کے آرام و فلاح کے لئے خرچ کیا جاتا ہے اور چالیس فی صد کارخانوں کی ترقی و توسیع پر صرف ہوتا ہے۔ میرا جواب یہ ہے کہ ٹھیک یہی نوعیت خود سرمایہ دار ممالک میں بھی قائم ہے۔ ان ملکوں میں سرمایہ دار اپنے کارخانوں سے جو منافع حاصل کرتا ہے وہ سب کا سب خود ہڑپ نہیں کر لیتا۔ بلکہ اس میں سے بہت بڑا حصہ بعض اوقات اس کا ۹۵ فی صدی حصہ ۔ ٹیکس کے طور پر حکومت کو دیدیتا ہے۔ کچھ رقم کارخانہ کی توسیع و ترقی میں لگاتا ہے اور اس کے بعد جو رقم بچتی ہے اس کو کچھ مزدوروں کے علاج ، ان کے لئے کوارٹروں کی تعمیر ان کے لئے روشنی، پانی، تعلیم اور تفریح وغیرہ کے انتظام میں خرچ کرتا ہے۔ خود حکومت بھی وصول کردہ ٹیکس کا ایک حصہ مزدوروں کے فلاح و آرام کے لئے خرچ کرتی ہے۔ اور آخر میں سرمایہ دار ایک رقم اپنے ذاتی اخراجات کے لئے لے لیتا ہے۔ جس طرح اشتراکی ممالک میں کارخانہ سے غیر متعلق وزیروں اور عہدہ داروں کو ان کے ذاتی اخراجات کے لئے کارخانہ کے منافع سے تنخواہ دی جاتی ہے۔ اسی طرح یکتی نظام میں سرمایہ دار اپنے ذاتی اخراجات کے لئے کارخانہ کے منافع میں سے ایک حصہ لیتا ہے۔ پھر دونوں نظاموں میں فرق کیا ہوا۔ جب حالات دونوں جگہ ایک ہیں تو نتائج آخر دو کس طرح ہو جائیں گے۔ مارکس نے قدر زائد کے ذریعہ افلاس اور امارت کے پیدا ہونے کی جو نظریاتی توجیہ کی تھی، اگر اس کو صحیح تسلیم کیا جائے تو روس میں بھی ویسے ہی معاشی حالات ہونے چاہئیں جو دوسرے سرمایہ دار ممالک میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page