حصہ سوم سوشلزم اور اسلام
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
سوشلیزم اور اسلام "اسلام اور سوشلیزم کو بیک وقت اختیار کیا جاسکتا ہے' ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں" یہ ایک سراسر غلط خیاں ہے جس کی بنیاد ایک دوسرے غلط خیال پر قائم ہے۔ اس طرح کی بات کہنے والے لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک مذہبی نظریہ ہے اور سوشلیزم ایک معاشی نظریہ۔ دوسرے لفظوں میں اسلام ایک عقیدہ ہے اور سوشلیزم ایک سماجی نظام ہے۔ پھر دونوں پر ایک ساتھ ایمان لانے میں کیا حرج ہے۔ جس طرح کسی بھی مذہب کی پیروی کرتے ہوئے آدمی اپنے رزق کے حصول کے لئے کوئی پیشہ اختیار کر سکتا ہے اسی طرح کسی بھی ذریعہ سے رزق حاصل کرتے ہوئے آدمی کسی مذہب کا پیرو وبن سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ تو اسلام محض ایک "مذہبی نظریہ" ہے اور دو سوشلیزم محض ایک معاشی نظریہ ۔ یہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلام خواہ کچھ بھی ہو وہ سوشلیزم کا مخالف نہیں ہے بلکہ سوشلیزم خود اسلام ہی کی صدائے بازگشت ہے جو ایک ہزار سال کے بعد یورپ سے بلند ہوئی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور سوشلیزم دو الگ الگ نظام ہیں جو فلسفہ اور عمل دونوں اعتبار سے باہم متصادم ہیں۔ وہ مکمل طور پر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یہ مختلف سمتوں میں بڑھنے والی لکیریں ہیں جن کے سرے کہیں بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ یہاں ہم کوشش کریں گے کہ اس تضاد کو کسی قدر وضاحت کے ساتھ بیان کریں اور ان دلائل کا بھی جائزہ لیں جو اسلام اور سوشلیزم کو ایک ثابت کرنے کے لئے بعض حلقوں کی طرف پیش کئے جا رہے ہیں۔ کتاب کے پچھلے صفحات میں ہم نے سوشلیزم پر کلام کرتے ہوئے مارکسی سوشلیزم کو سامنے رکھا تھا۔ اسی طرح اگلے صفحات میں سوشلیزم اور اسلام کا جو تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے اس میں بھی بنیادی طور پر مارکسی سوشلیزم کو سامنے رکھا گیا ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ ان لوگوں کے نظریات پر بھی گفتگو ہے جو مارکس کا حوالہ دئے بغیر سوشلیزم کی وکالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے سوشلیزم موجودہ زمانہ میں ایک بہت وسیع لفظ بن گیا ہے مختلف لوگوں نے اس کے مختلف معنی قرار دئے ہیں۔ حتی کہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو "سوشلیزم"

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader