سوشلزم کا حل
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لئے جس تجویز کا حوالہ دیا تھا وہ بہت تیزی سے ساری دنیا میں پھیل رہا ہے ۔ اس حل کے پیچھے استدلال کی قوت اگرچہ یہی مادی فلسفہ تھا ، جو اوپر بیان کیا گیا اور حقیقت یہ ہے کہ اس مادی فلسفہ سے الگ کر دینے کے بعد اس کے حل کے کوئی معنیٰ نہیں رہتے ۔ مگر یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ لوگوں نے دلیل کو تسلیم نہیں کیا کیونکہ وہ صراحتاً غلط تھی مگر اس غلط دلیل سے جو نتیجہ برآمد ہوتا تھا اس نتیجہ کو قبول کر لیا ۔ مارکس کا حل بہت تیزی سے دنیا میں پھیل رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس حل کے پیچھے جو فلسفہ ہے اس نے لوگوں کو یقین دلا دیا ہے کہ اس کا تجویز کیا ہوا حل ہی انسانیت کے مسائل کو درست کر سکتا ہے ۔ صورتِ حال اس کے برعکس ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا کی مثال ایک ایسے مریض کی ہے جو اپنی تکلیف وہ علالت سے اس قدر گھبرا اٹھا ہو کہ جو شخص بھی اسے ایک دوا بتا دے ، وہ اس کا تجربہ کرنے کے لئے تیار ہو جائے ۔ سوشلزِم کی مقبولیت کا راز اس کے فلسفہ میں نہیں ہے ، بلکہ دکھی انسانیت کی اپنی بے قراری اس کا سبب ہے ۔ یہی وہ شگاف ہے جس کے راستہ سے یکمل الحادی فلسفہ انسانی آبادی میں نفوذ کر رہا ہے ۔ بڑے بڑے کمیونسٹ تک اس سے اسی حیثیت سے متاثر ہوئے ہیں نہ کہ اس کے مادی فلسفہ پر ایمان لاکر اس کی طرف بڑھے ہیں ۔ بر ٹرینڈ رسل کے الفاظ میں ” سوشلزِم اور انارکزم کی اشاعت کا راز موجودہ انسانی دکھوں میں اس گہرے تعلق کی پیدائش ہے جس نے بے دست و پا مفکرین کی اُمیدوں کو سیاسی تحریکوں کا محرک بنایا ۔ یہی سوشلزِم اور انارکزم کی اہمیت کا راز ہے ۔“ امریکہ کا مشہور کمیونسٹ ادیب ہوور ڈ فاسٹ (Howard Fast) جو پچھلی چوتھائی صدی سے کمیونسٹ پارٹی کی صفوں میں عالمی شخصیت کا مالک سمجھا جاتا تھا ۔ ۱۹۵۷ء کے آخر میں اس نے کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت سے استفادہ دے دیا ۔ اس سلسلہ میں اپنے اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے وہ ایک مضمون میں لکھتا ہے : ” میں مارکسی اپنے شخصی فکری ڈھانچہ ہی میں بنا ۔ اور میرا خیال ہے کہ یہی حال بہت سے دوسرے لوگوں کا بھی ہے ۔ مجھے دستبرداری ہونے کے بعد مذہبی شخص کا نام دیا گیا ہے ۔ اگر چہ میں وسیع تر مفہوم میں اس سے انکار نہیں کرتا۔ لیکن میرے مذہب کا مرکز آدمی تھا ۔ کوئی ماورائی قوت نہیں۔ اگر نیکی اور آدمی کی پُر شکوہ تقدیر میں گہرا اور ناقابلِ تزلزل ایمان مذہب ہے ، تو مجھے مذہبی ہونے کا اعتراف کرنا چاہئے ۔“ میں نے کمیونسٹ پارٹی میں شرکت دو اسباب سے کی ۔ مجھے یقین تھا کہ کمیونسٹ پارٹی صحیح انسانی اخوت کی ابتدار ہے اور صدق دل سے سوشلزِم ، امن اور جمہوریت کے لئے کام کر رہی ہے ۔ دوم مجھے یقین تھا کہ کمیونسٹ پارٹی ہی فاشزم کی مؤثر مزاحمت کر رہی ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader