سوشلزم کا حل
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلہ میں لاکھوں نیک دل اشخاص کی طرح مجھے یقین تھا کہ سوویت یونین کے دوست جو تصویریں پیش کرتے ہیں ان میں سوویت یونین کے متعلق سچائی ہی بیان کی جاتی ہے۔ سوشلزم نے اپنے فلسفہ کے تحت زندگی کا جو حل پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان جدوجہد کرکے اپنے معاشی حالات کو بدل ڈالے۔ جب انسان صرف ایک مادی مخلوق ہے تو اس کی حرکت اور تبدیلی کے قوانین بھی مادی ہونے چاہئیں۔ لوہے کو پرزہ کی شکل دینے کے لئے اس کے اوپر ایک مخصوص مادی عمل کیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ ڈھلے ڈھلائے پرزہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اسی طرح انسان بھی ایک مادی مخلوق ہے اور اس کو دکھ اور مصیبت سے نکال کر بہتر انجام کی طرف لے جانے اور اس کو مستقل طور پر تمام آفات وخطرات سے پاک کردینے کا کام بھی کسی مادی عمل ہی کے ذریعہ انجام پاسکتا ہے۔ یہ مادی عمل مارکس کے نزدیک معاشی پیداوار میں تبدیلی کا عمل ہے۔ وہ نظام پیداوار جو نا معلوم مدت سے انفرادی ملکیت پر مبنی چلا آرہا ہے' اس کو بدل کر اجتماعی ملکیت کی شکل دے دینا' یہی وہ عمل ہے جو انسان کو بدل دے گا۔ اس کو بد تر حالت سے بہتر حالت کی طرف لے جائے گا۔ یہ اجتماعی ملکیت کا حل جس کو مارکس نے ایک فلسفہ کی شکل دے دی ہے دراصل یورپ میں صنعتی انقلاب سے پیش آنے والے حالات کا لازمی نتیجہ تھا۔ جب ظلم کی ایک حالت سامنے ہو تو اس وقت قدرتی طور پر لوگوں کی نفسیات یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اس مخصوص حالت ہی کو ظلم کا اصل سبب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ اگر اس مخصوص حالت کو ختم کرکے اس کے برعکس حالت قائم کردی جائے تو ظلم کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ چنانچہ انیسویں صدی کی ابتدا میں جب بے قید کار و بار اور تجارت میں اندھا دھند مقابلے کی وجہ سے بہت سی خرابیاں رونما ہوئیں تو اس کے رد عمل کے طور پر لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ سرمایہ اور دوسرے ذرائع پیداوار پر انفرادی قبضہ ہی ان تمام خرابیوں کا اصل سبب ہے۔ چنانچہ عام طور پر یہ رجحان پیدا ہونے لگا کہ انفرادی ملکیتوں کو ختم کرکے اجتماعی ملکیت کا نظام قائم کرنا چاہئے۔ اس عام احساس کو مارکس نے پوری طرح جذب کرکے اس کو زیادہ مدلل اور منظم طریقہ پر پیش کر دیا۔ مارکس کا یہی وہ کارنامہ ہے جس کی بنا پر سوشلزم کو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور سوشلزم کے سائنٹفک تصور کا دوسرا نام ”مارکزم“ پڑ گیا ہے۔ یورپ میں جس وقت یہ تصور ابھرا تو صورتِ حال یہ تھی کہ ایک طرف موجودہ الوقت صنعتی نظام تھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader