Urdu book · سوشلزم اور اسلام

حرفِ آخر

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

حرف آخر اور پر ہم نے جو جائزہ پیش کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام اور اشتراکیت دو الگ الگ نظریے ہیں جو فکری اور عملی دونوں اعتبار سے باہم ٹکراتے ہیں۔ جو لوگ اسلامی تعلیمات سے ان دونوں کا اتحاد ثابت کرتے ہیں ان کے کام کی نوعیت دراصل یہ نہیں ہے کہ اسلام کے مطالعہ نے انھیں اس حقیقت تک پہنچایا ہے اور اب وہ اس کو اسلام کی صحیح تشریح کے طور پر پیش کر رہے ہیں بلک اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرات سوشلزم سے متاثر ہیں یا باقاعدہ اس پر ایمان لا چکے ہیں۔ مگر کسی وجہ سے وہ نہیں چاہتے کہ سوشلزم کو سوشلزم کے نام پر پیش کریں۔ وہ سوشلزم کو اسلام کے نام پر پیش کرنا چاہتے ہیں یہی وہ ذہن ہے جس نے وہ تمام دلائل ایجاد کئے ہیں جن میں سے بعض کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے ۔ اس قسم کی ذہنیت کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ اسلامی تاریخ میں یہ بات بہت پہلے سے ہوتی چلی آرہی ہے ۔ جب دنیا میں شہنشاہی نظام رائج تھا اور بہت سے لوگوں کے مفادات اس سے وابستہ ہوگئے تھے تو انھوں نے بادشاہت کو عین اسلامی ثابت کرنے کے لئے حدیث نبوی "السلطان ظل الله" میں تحریف کی اور اس سے یہ مطلب نکالا کہ شاہی نظام خدا کا پسندیدہ نظام ہے ۔ اس کے بعد جمہوریت کا زمانہ آیا تو "امرھم شوریٰ بینھم" سے جمہوریت کے حق میں دلیل فراہم کی گئی۔ نازیت کا عروج ہوا تو بہت سے لوگوں کو اسلام کا حکومت الہیہ کا تصور نازی ڈکٹیٹر شپ کے عین مشابہ نظر آنے لگا ۔ اب سوشلزم کا دور ہے تو اس کے حق میں قرآن وسنت سے دلیلیں ڈھونڈی جارہی ہیں۔ کاش یہ لوگ تاریخ سے سبق لیتے اور زمانہ کے مٹنے والے نقوش سے ہم آہنگ کرنے کے شوق میں اسلام کی ابدی تصویر کو بگاڑنے کی کوشش نہ کرتے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page