حرفِ آخر
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
معاش کا مسئلہ معاش اور روزگار کا مسئلہ آج ساری دنیا میں مسئلہ نمبر ایک کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر سو سال پہلے اور ہندوستان کے اعتبار سے تو صرف پچاس سال پہلے یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ انیسویں صدی کا انسان در حقیقت روٹی کے اس سوال سے بالکل نا آشنا تھا جس سے آج بیسویں صدی کی ترقی یافتہ دنیا دو چار ہو رہی ہے۔ اس وقت کوئی بھی شخص اپنے قریبی ماحول میں ہاتھ پاؤں مار کر زندگی کی ضروریات فراہم کر لیتا تھا اور آج یہ حالت ہے کہ یونسکو UNESCO کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی دو تہائی آبادی نہایت غربی (Abject poverty) کی حالت میں زندگی گزار رہی ہے جن ملکوں میں بظاہر بڑی خوش حالی نظر آتی ہے وہاں بھی یہ خوش حالی صرف چند دولت مندوں کے لئے ہے نہ کہ عام آبادی کے لئے۔ امریکہ جو دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند ملک سمجھا جاتا ہے، وہاں سولہ کروڑ کی آبادی میں صرف ۴۸ کرور پتی ہیں۵۔ اور یہی لوگ سارے ملک کی صنعت و تجارت پر قابض ہیں۔ برطانیہ کی آدھی آبادی مفلسی کی حالت میں زندگی گزار رہی ہے۔ ایک انگریز پارس گنگسے (Charles Kingsley) نے کہا ہے: "انگلینڈ ان لوگوں کے لئے بڑے آرام کی جگہ ہے جو دولت مند ہیں۔ مگر انگلینڈ ان لوگوں کے لئے بڑی سخت جگہ ہے جو میری طرح غریب ہیں ۷ غرض آج دنیا کی بیشتر آبادی ایک طرح کے معاشی عذاب میں مبتلا ہے ۔ جس سے رہائی کی کوئی Amrita Bazar Patrika, July 30, 1955 ۵ ۷ Book of Quotations, p. 77 ۷ قومی آواز ۲۲ جولائی ۱۹۵۵ء۔ واضح ہو کہ یہ مضمون ۱۹۵۸ میں لکھا گیا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader