حرفِ آخر
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
سبیل اسے نظر نہیں آتی۔ آج کل کے ماہرین معاشیات کے نزدیک اس مسئلے کے پیدا ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی آبادی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مثلاً ۱۸۱۸ء میں غیر منقسم ہندوستان کی آبادی تقریباً ساڑھے ۲۵ کروڑ تھی اور اب انڈیا کی آبادی تقریباً ۳۰ کروڑ رہے اور اگر پاکستان کی تعداد بھی شامل کر لی جائے جو ۱۹۵۱ء کی مردم شماری کے مطابق تقریباً آٹھ کروڑ ہے، تو کہا جا سکتا ہے کہ پچھلے ۱۰۰ سال کے اندر صرف اس ایک حصہ زمین کی آبادی میں جو ایک طرف ہمالیہ پہاڑ اور دوسری طرف خلیج بنگال اور بحر عرب کے درمیان واقع ہے، میں کروڑ انسانوں کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح سنہ ۱۸۱۸ء میں ساری دنیا کی کل آبادی کا اندازہ نوے کروڑ کیا گیا تھا، اور اب ڈیڑھ سو سال کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی آبادی ڈھائی ارب ہو چکی ہے۔ یعنی پہلے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ۔ آبادی کے اس غیر معمولی اضافہ کو دیکھ کر عام طور پر خیال کیا جانے لگا ہے کہ بے روزگاری اور دوسرے معاشی مسائل کے پیدا ہونے کی اصل وجہ یہی ہے۔ مگر آبادی میں اضافہ کو معاشی دشواریوں کا سبب اسی وقت قرار دیا جا سکتا ہے جب یہ ثابت ہو جائے کہ دنیا میں پیدا وار کے جو امکانات ہیں وہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورتوں کے لئے ناکافی ہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں فالتو پیدا وار کو کھپانے کے لئے یہ مسئلہ اٹھتا ہو کہ اس کو جلا دیا جائے یا سمندر میں ڈال دیا جائے، وہاں یہ کہنا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ روٹی کا مسئلہ اس لئے اہم ہو گیا ہے کہ کھانے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ سطح زمین کا تقریباً پا حصہ ریگستان ہے، ایٹمی قوت کی دریافت کے بعد اس کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ ان ریگستانوں کو لہلہاتے ہوئے فارموں میں تبدیل کر دیا جائے جو اس وقت صرف نئے بننے والے بموں کی تجربہ گاہ ہیں۔ اگر ان ریگستانوں میں آب پاشی کا انتظام کیا جا سکے تو ان سے موجودہ زیر کاشت زمین کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ بہتر پیدا وار حاصل ہو سکتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہندوستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر سال تقریباً بائیس لاکھ ٹن اناج باہر سے منگانا پڑتا تھا۔ مگر مسٹر رفیع احمد قدوائی کی وزارت کے زمانہ میں ثابت ہو چکا ہے کہ یہ کمی دراصل ذخیرہ اندوزی اور کنٹرول سسٹم کے مصنوعی نظام کی وجہ سے تھی ، ورنہ اگر ٹھیک انتظام کیا جائے تو ہندوستان غذائی اعتبار سے بالکل ایک خود کفیل ملک ہے جو اپنی بڑھی ہوئی آبادی کی تمام غذائی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ ہندوستان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader