حصہ اول تمہید
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
مارکسزم کیا ہے اشتراکیوں کے نظریہ کو ایک جملہ میں یوں ادا کر سکتے ہیں "ذاتی ملکیت کا خاتمہ" یہ مارکس اور انگلس کے مشہور کمیونسٹ مینی فیسٹو کا ایک فقرہ ہے۔ یہ ذاتی ملکیت کا خاتمہ یا دوسرے لفظوں میں "د سماجی ملکیت کا نظام" معمولی اختلافات کے ساتھ اس زمانہ میں عام طور پر انسان کے معاشی مسائل کا حل سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جو انار کرزم ، سنڈیکیلم ، کمیونزم سوشلسزم اور گلڈ سوشلسزم وغیرہ مختلف ناموں سے ظاہر ہوا ہے۔ اگر چہ ان نظریات کے درمیان مختلف مسائل میں بہت سے اختلافات ہیں اور اکثر اوقات یہ ایک دوسرے کی تردید بھی کرتے رہتے ہیں۔ مگر جو بات سب میں مشترک ہے وہ یہ کہ یہ تمام نظریئے اجتماعی ملکیت کے نظام پر یقین رکھتے ہیں اور زندگی کے بارہ میں اس فلسفہ کو کسی نہ کسی شکل میں تسلیم کرتے ہیں جو مارکس اور اس کے ہم خیال مفکرین نے اپنے نظریہ کی تائید میں مرتب کیا تھا۔ یہ مختلف جماعتیں نہیں ہیں بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں یہ ایک تحریک کے مختلف فرقے ہیں جو بعض جزئی یا عملی مسائل میں اختلاف کی وجہ سے الگ الگ ٹکڑوں میں بٹ گئے ہیں۔ ان صفحات میں میں زیادہ تر مارکسزم کو سامنے رکھ کر گفتگو کروں گا۔ اس کی وجہ ایک تو ہے کہ کسی دوسرے مدرسۂ فکر کے اصول و قواعد اس طرح سے باقاعدہ طور پر منظم اور متعین نہیں ہیں جس طرح مارکسزم کے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اشتراکی افکار جو مارکس سے پہلے یورپ میں پھیلے ہوئے تھے ، مارکسزم ان سب کا خلاصہ اور اس کے بعد جو انکار پیدا ہوئے ان سب کی اصل ہے۔ اس لئے مارکسزم پر جو گفتگو ہوگی وہ بڑی حد تک ماضی اور حال کے دوسرے سوشلسٹ نظریات پر بھی اسی طرح چسپاں ہوگی جس طرح دہ خود مارکس کی تعلیمات پر چسپاں ہوتی ہے ۔ مارکس نے کوئی بات نئی نہیں کہی ہے۔ لینن کے الفاظ میں " اس نے ان سوالوں کے جواب فراہم کئے ہیں جن پر اس سے پہلے ممتاز لوگوں نے دماغ سوزی کی تھی۔ مارکس کی تعلیمات فلسفہ، معاشیات اور سوشلسزم کے بڑے بڑے نمائندوں کی تعلیمات کا براہ راست نتیجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader