Urdu book · سوشلزم اور اسلام

حصہ اول تمہید

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

اور اس سلسلہ کی اگلی کڑی ہے لے۔ انیسویں صدی میں جرمن فلسفہ ، انگریزی علم معاشیات اور فرانسیسی سوشلزم کے روپ میں یورپ کے مادی ذہن نے جو چیزیں تخلیق کی تھیں مارکس نے ان کوئی ترتیب اور مزید قوت استدلال کے ساتھ اکٹھا کر دیا ہے۔ جس میں اس مظلوم طبقہ کی چیخ بھی شامل ہے جس کو یورپ کے صنعتی انقلاب نے جنم دیا تھا ۔ نظریاتی جائزہ مارکس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے تاریخ کو وہ کچھ بخشا ہے جو ڈارون نے علم الحیات کو۔ مارکس اس خیال کو دوسرے انداز سے ظاہر کرتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے تاریخ کو سائنس کی صورت دی ہے ۔ ایک ایسی سائنس جس کے اپنے قوانین ہیں اور جس کے مطابق ماضی اور مستقبل دونوں کی تشریح کی جاسکتی ہے ۔ دنیا میں جو کچھ ہے یا ہر آن جو کچھ پیش آرہا ہے ، ان کو اگر ” واقعات“ کے لفظ سے تعبیر کیا جائے تو یہ دو قسم کے واقعات ہوں گے ۔ ایک وہ جو مادی دنیا سے متعلق ہیں اور دوسرے وہ جو انسانی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ایک دنیا وہ ہے جس کے تمام واقعات اپنے قوانین کے تحت خود بخود وجود میں آتے ہیں ۔ اور دوسری دنیا وہ جس کے واقعات کو بظاہر کسی کا شعور اور ارادہ وجود میں لاتا ہے ۔ پہلی دنیا میں اٹیم کے ناقابل مشاہدہ ذرات سے لے کر سیاروں کی عظیم کائنات تک ہر چیز ایک قانون میں بندھی ہوئی ہے ۔ اور اسی کے مطابق کوئی شکل اختیار کرتی ہے ۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اسباب خود اس چیز کے اندر پہلے سے کام کر رہے تھے جس کے اندر کوئی واقعہ ظاہر ہوا ہے ۔ اسی طرح جو کچھ آئندہ ہوگا وہ بھی اپنے سابقہ حالات کا نتیجہ ہوگا جس کے اسباب پہلے سے اس کے وجود کے لئے کام کر رہے ہوں گے ۔ ستاروں کی گردش کے نظام کو معلوم کرنے کے بعد ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ کوئی ستارہ ایک سو سال پہلے کہاں تھا اور آئندہ ایک سو سال بعد کہاں ہوگا۔ لوہے کی خاصیت دریافت کر کے ہم اس کے ذریعہ بڑی بڑی مشینیں اور آلات بنا سکتے ہیں ۔ پانی کے قانون کو معلوم کر کے ہم اسے بھاپ کی طاقت میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان جس کائنات کو اپنے سامنے پاتا ہے وہ بذات خود قائم ہے ۔ اس کے اپنے قوانین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page