مارکس کے حل پر اصولی تنقید
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص کی معاش کے بھی ذمہ دار ہیں ۔ جمہوریت نے اپنے "منتخب نمائندوں" کو صرف سیاسی خدا وند بنایا تھا ، مارکسزم نے سیاسی خداوندی کے ساتھ انھیں ان دانا کا مقام بھی دے دیا۔ مارکسی نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ تنظیم معاشیات کا کام سرمایہ کے ہاتھ سے نکل کر سیاست کے ہاتھ میں چلا جائے۔ یہ سانپ کو مار کر ارد ہے کو زندہ رکھنا ہے ۔ یہ نظر ی مسئلہ کو حل نہیں کرتا بلکہ اس کو اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ مارکسی حضرات موجودہ بورژوا جمہوریت پر سخت تنقید کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام بظاہر تو اس بات کا مدعی ہے کہ وہ عوامی حکومت کا نظام ہے مگر در حقیقت وہ چند اشخاص کا نظام ہے جو عوام کے ووٹوں سے اپنی حکومت کے لئے سند جواز حاصل کرتے ہیں۔ مگر کیا اشتراکیت کے پاس اجتماعی ملکیت کے نظام کو چلانے کے لئے اس کے سوا کوئی اور طریق کار ہے جو جمہوریت نے اختیار کیا ہے۔ جمہوریت نے پارلیمانی طریق کا راختیار کیا ہے ۔ وہ اپنے دعوے کے مطابق تو عوا می نظام ہے مگر حقیقۃ یہ عمل بالواسطہ طور پر انجام پاتا ہے ۔ اس میں تمام افراد معاملات کو فیصل کرنے میں براہ راست حصہ نہیں لیتے بلکہ اپنے نمائندوں کے واسطے سے اس میں شریک ہوتے ہیں ۔ پوری آبادی میں سے کچھ متعین لوگ ووٹر ہوتے ہیں۔ پھر یہ ووٹر اپنی اپنی رایوں سے ایک مجلس نمائندگان کا انتخاب کرتے ہیں۔ پھر اس مجلس نمائندگان میں سے وہ چند لوگ منتخب کئے جاتے ہیں جو حکومت کو چلاتے ہیں۔ اس طرح عملاً حکومت کے سارے اختیارات ، چند لوگوں کے ہاتھ میں سمٹ جاتے ہیں۔ ٹھیک یہی طریقہ کمیونزم نے بھی اختیار کیا ہے۔ اشتراکی حکومتیں دوسرے لفظوں میں محنت کش طبقہ کی حکومتیں ہیں ، تو مارکس کے الفاظ میں آبادی کا 80 فیصد حصہ ہیں۔ مگر یہاں بھی وہ صورت حالی نہیں ہے اور نہ در حقیقت ممکن ہے جو قدیم زمانہ میں یونان کی چھوٹی چھوٹی شہری حکومتوں کی تھی جب کہ اجتماعی معاملات کا فیصلہ کرنے کے لئے سارے شہری جمع ہوا کرتے تھے ۔ بلکہ یہاں بھی وہی نمائندگی کا بالواسطہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ پارلیمانی نظام کی ساخت ہی کچھ اس قسم کی ہے کہ نظری طور پر تو وہ سارے عوام کی حکومت ہے ، مگر عمل میں آتے آتے وہ صرف ایک یا چند اشخاص کی حکومت بن جاتی ہے۔ اور جب اس نظام کے ساتھ اشتراکیت بندی کے اصول کو بھی اپنا لیا جائے ، تو پھر تو اس کی مرکز بیت کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ اشتراکی سماج کی نوعیت کو اگر چند الفاظ میں ادا کرنا چاہیں تو یوں کہا جا سکتا ہے۔ " اشتراکی حکومت میں اقتدار کلیہ محنت کش طبقہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے ، یعنی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ میں ہوتا ہے ، یعنی سنالن کے ہاتھ میں ہوتا ہے"۔ مارکسی حضرات یہ کہتے ہیں کہ اشتراکی نظام میں وہ خرابیاں پیدا نہیں ہوسکیں تو جمہوری نظام میں ے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader