مارکس کے حل پر اصولی تنقید
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
جو اس سے پہلے روسو کی ''سیاسی جمہوریت'' کا ہو چکا ہے۔ جب دونوں کا فلسفہ ایک ہے اور دونوں جگہ حصول مقصد کے لئے یکساں طریق کار اختیار کیا گیا ہے تو آخر دونوں کا انجام ایک دوسرے سے مختلف کیوں ہوگا۔ جب دونوں کی منطق ایک ہے تو دونوں کا نتیجہ بھی ایک ہی ظاہر ہونا چاہئے۔ جمہوریت اور اشتراکیت دونوں بے طبقاتی سماج میں یقین رکھتے ہیں ، دونوں کا مقصد ایسا معاشرہ پیدا کرنا ہے جہاں اونچ نیچ نہ ہو ، جہاں سب کو یکساں مواقع حاصل ہوں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دونوں مختلف راہوں سے اس کام کو انجام دینا چاہتے ہیں۔ انسانی ساخت کے یہ دونوں نظریئے اگرچہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حقیقتاً دونوں کا طرز فکر بالکل ایک ہے۔ جمہوریت نے کہا کہ سماج میں طبقات پیدا ہونے کی بنیاد یہ ہے کہ اقتدار سارے عوام کی ملکیت نہ ہو بلکہ صرف چند لوگوں کے ہاتھ میں ہو۔ کچھ لوگ حاکم اور بادشاہ ہوں اور بقیہ تمام لوگ ان کی رعایا ہوں۔ اس لئے اس نے نعرہ لگایا کہ ''حکومت سارے عوام کا حق ہے ، اس پر سارے عوام کا قبضہ ہونا چاہئے‘‘۔ مگر نظری اعتبار سے یہ بات خواہ کتنی ہی دلکش ہو ، یہ واقعہ ہے کہ ملکی انتظام کا کام تمام لوگ نہیں کر سکتے اس لئے اقتدار کو لازماً چند لوگوں کے ہاتھ میں مرتکز کرنا ہوگا۔ چنانچہ جمہوریت نے الیکشن کا طریقہ اختیار کیا۔ جس کے معنی یہ تھے کہ عوام اپنی مرضی سے اپنا حق حاکمیت چند اشخاص کے ہاتھ میں دے رہے ہیں تاکہ وہ مفاد عامہ کے مطابق اس کو استعمال کریں۔ مگر خود مارکسی حضرات کے قول کے مطابق عملًا یہ ہوا کہ چند لوگ جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے تھے ، نسلی بادشاہوں کی جگہ جمہوری بادشاہ بن کر عوام کے سروں پر مسلط ہوگئے ۔ ٹھیک اسی طرح مارکسزم نے کہا کہ سماج کے اندر طبقات کی بنیاد یہ ہے کہ معاش حاصل کرنے کے ذرائع عوام کے بجائے چند لوگوں کے ہاتھ میں چلے جائیں جو مالک بن کر اس پر قبضہ کر لیں اور بقیہ لوگ ان کی ملازمت اور مزدوری کرتے رہیں ۔ اس لئے اس نے نعرہ لگایا کہ '' ذرائع پیداوار عام لوگوں کا حق ہیں ، ان پر سارے عوام کا قبضہ ہونا چاہئے‘‘۔ مگر ٹھیک وہی سوال یہاں بھی پیدا ہوتا ہے جو سیاسی جمہوریت کے سلسلہ میں پیدا ہوا تھا۔ یعنی یہ کہ نظری اعتبار سے ذرائع پیداوار کو سارے عوام کی ملکیت کہہ دینے سے فی الواقع وہ سارے عوام کی ملکیت نہیں بن جاتے بلکہ اس کے انتظام کے لئے چند لوگوں کو مقرر کرنا ہوگا جو مفاد عامہ کے مطابق اس کی پیدائش اور تقسیم کا بندوبست کریں۔ مارکسزم نے کہا کہ یہ چند لوگ محنت کش طبقے کے نمائندے ہوں گے جو سب کے مفاد کے مطابق ذرائع پیداوار کا انتظام کریں گے ۔ یہ نئے الفاظ اور نئے عنوان کے ساتھ ٹھیک وہی بات ہے جو جمہوریت نے کہی تھی۔ البتہ اس میں ''چند لوگوں‘‘ کا دائرہ اختیار بہت بڑھادیا گیا ہے۔ وہ سیاست کے ساتھ آبادی کے ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader