Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

عوام کی ملکیت بنا دیا ہے ۔ مگر اشتراکِ حضرات اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ عملاً جمہوری نظام کا تجزیہ کرکے دیکھتے ہیں کہ فی الواقع اختیارات کا مالک کون ہے ۔ اسی طرح خود اشتراکِ حضرات کے دعوے کو بھی عمل کی دنیا میں جانچ کر دیکھا جائے گا کہ وہ فی الحقیقت کیا شکل اختیار کرتا ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ جس طرح سرمایه دارانه سماج میں پیداوار کے ذرائع کو ترکّت دینے کا اختیار چند سرمایه داروں کو حاصل ہوتا ہے اسی طرح اشتراکی سماج میں بھی اس کے بغیر چارہ نہیں کہ ان ذرائع کو ترکّت دینے کا اختیار چند کام ریڈوں کو سونپ دیا جائے ۔ دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ ایک جگہ اختیارات کی مرکزیت انفرادی ملکیت کے نام پر ہوتی ہے اور دوسری جگہ یہی عمل سماجی انتظام کے نام پر انجام دیا جائے گا۔ اس طرح صرف شکلوں کا فرق ہے ، ورنہ اصل خرابی — ارتکاز — دونوں جگہ موجود ہے۔ پھر جمہوریت کے عوامی نظریہ کا جو انجام ہوا وہی آخر مارکسزم کے ”مزدور نظریہ“ کا کیوں نہ ہوگا۔ جب کہ اس میں مرکزیت کی خرابی دگنی شدت کے ساتھ جمع ہوگئی ہے۔ لینن نے روس کے موجودہ اشتراکی نظام کو ”سٹیٹ سوشلزم“ سے تعبیر کیا تھا۔ مگر سٹیٹ سوشلزم زیادہ صحیح لفظوں میں سٹیٹ کیپٹلزم (State capitalism) کا دوسرا نام ہے ۔ روسی کمیونسٹ پارٹی کی بیسویں کانگریس میں سٹالن کے بارے میں جو اعترافات کئے گئے ہیں وہ بھی اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ معاشی وسائل کو عوامی ملکیت بنا دینے سے حقیقتاً اختیارات عوام کے ہاتھ میں آجاتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو سٹالن نے جس وقت مفادِ عام کے طریقہ پر کام کرنے سے انحراف کیا تھا، اس وقت فوراً عوام اسے برطرف کر دیتے: کہ انتہائی ظالم بن جانے کے بعد بھی وہ اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک ملک کا حاکم اعلیٰ بنا رہا اور روس کے کسی بڑے سے بڑے آدمی حتیٰ کہ کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری کو بھی یہ جرات نہ ہوئی کہ اس کے رویہ پر تنقید کر سکتا ۔ اجرتى غلامی کا نظام مارکسی مفکرین موجودہ ملکیتی نظام کو ”اجرتی غلامی“ کا دور کہتے ہیں جس میں انسان بظاہر آزاد رہتے ہوئے بھی اپنی گناہ اوقات کے لئے مجبور ہے کہ کسی سرمایہ دار کے لئے اجرت پر کام کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ سماج نے غلامی کی پچھلی زنجیریں توڑ ڈالی ہیں۔ مگر سرمایہ کا پھندا آج بھی مزدوروں کے گلے میں پڑا ہوا ہے ۔ قانون کی نظر میں سرمایہ دار اور مزدور کے حقوق یکساں ہیں مگر تمام ذرائع پیدا وار پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہے اور جس طبقہ کے ہاتھ میں سماج کے ذرائع پیدا وار ہوتے ہیں وہی طبقہ سماج کا حکمراں طبقہ بن جاتا ہے اور باقی تمام لوگ اس کے دست نگر ہوجاتے ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page