Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی سماج میں ذرائع پیدا دار کا سرمایہ داروں کے ہاتھ میں رہنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک مٹھی بھر اقلیت پورے سماج پر قابض ہے۔ اس کے معنی صرف یہ نہیں کہ لوہا، کوئلہ، تیل، اناج، کپڑا، سیمنٹ، وغیرہ پر اس کی اجارہ داری ہے بلکہ اجتماعی زندگی کے سارے اختیارات بھی اسی کو حاصل ہوتے ہیں، پریس، اخبار، ریڈیو تعلیم گاہیں، سینما، کچہری، غرض وہ تمام چیزیں بھی اس کے اختیار میں چلی جاتی ہیں جن سے سیاسی رائیں اور خیالات بنتے ہیں۔ اس طرح آدمی کے جسم سے لے کر اس کے دماغ تک پورا وجود اس کی مٹھی میں ہوتا ہے اور وہ جمہوریت کے خوبصورت عنوان سے اپنی ڈکٹیٹر شپ لوگوں کے اور مسلط کر دیتا ہے۔ موجودہ جمہوری نظام کے متعلق مارکسی مفکرین بڑے زور شور کے ساتھ یہ بات کہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بات جمہوریت سے زیادہ اس نظام پر صادق آتی ہے جس کو یہ حضرات جمہوریت کے بعد لانا چاہتے ہیں۔ جس طرح جمہوریت اختیارات کو ایک مخصوص گروہ کے ہاتھ میں مرتکز کرتی ہے اسی طرح سوشلزم بھی تمام اختیارات کو ایک مخصوص پارٹی کے ہاتھ میں دے دیتا ہے، ”پھر مزدوریوں کی حکومت“ کس لئے؟ ”عوام کی حکومت“ سے مختلف ہوگی۔ جمہوری تحریک نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ ”شاہی طبقہ کے بجائے عوام کی حکومت“ ہونی چاہئے۔ مگر جب اس نعرہ کو عمل کی صورت دی گئی تو بقول آپ کے عوام کے چند ”نمائندے“ سارے اختیارات اور ذرائع و وسائل پر قابض ہو گئے ۔ اور عوام کی حالت میں اس کے سوا کوئی تبدیلی نہیں ہوئی کہ وہ ایک آقا کی غلامی سے نکل کر دوسرے آقا کی غلامی میں چلے گئے۔ اسی طرح اشتراکیت کا نعرہ ہے کہ ”سرمایہ دار طبقہ کے بجائے مزدوروں کی حکومت“، پھر کیوں ایسا نہیں ہوگا کہ اشتراکی انقلاب کے بعد جن ”مزدور نمائندوں“ کو ریاستی اقتدار اور معاشی استبا و ذرائع سونپے جائیں گے وہی بالآخر ڈکٹیٹر بن جائیں گے اور جبر واستصال کا نیا نظام قائم ہو جائے گا۔ موجودہ بورژوا طبقہ کے بارے میں مارکس اور انگلس نے لکھا ہے کہ اس نے ”مذہبی اور سیاسی فریب کے پردہ میں روپوش استحصال کو عریاں‘ بے غیرت ، براہ راست اور وحشیانہ استحصال میں تبدیل کر دیا ہےلیے“، یہ تنقید جس قدر ”بورژوا نظام“ پر صادق آتی ہے اس سے زیادہ خود اشتراکی نظام پر صادق آتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جبر اور اقتصادی لوٹ جو موجودہ نظام میں بے قاعدہ طور پر ہو رہی ہے اس کو اشتراکی نظام باقاعدہ اور منظم بنا دیتا ہے۔ حکمراں گروہ جو عام حالات میں صرف پولیس اور فوج کا مالک ہوتا ہے‘ مارکس انھیں کے ہاتھ میں سارے ملک کی معاشیات بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page