حصہ اول تمہید
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہید انسان اپنے آپ کو ایک وسیع اور عظیم کائنات میں پاتا ہے جس کا وہ بے حد حقیر حصہ ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس کائنات سے الگ نہیں کر سکتا۔ اس لئے وہ اپنے بارے میں اس سے الگ ہو کر سوچ بھی نہیں سکتا۔ قدرتی طور پر انسان یہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے اور کائنات کے درمیان تعلق کو دریافت کرے ۔ وہ کائنات سے اپنا صحیح رشتہ قائم کرے ۔ تاہم انسان اکثر اس رشتہ کو دریافت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انسان کی تمام گمراہیاں دراصل اسی عدم دریافت کا دوسرا نام ہیں۔ شرک کیا ہے۔ شرک یہ ہے کہ کائناتی مظاہر کو خدا کا مختلف روپ فرض کر لیا جائے اور یہ یقین کر لیا جائے کہ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ ان کو پوجتا ہے۔ انسان اور کائنات دونوں خدا کی مخلوق ہیں مگر شرک یہ کرتا ہے کہ انسان کو عابد کے مقام پر رکھ دیتا ہے اور کائنات کو معبود کے مقام پر۔ مارکس کی غلطی بھی ایک اعتبار سے اسی نوعیت کی ہے۔ مارکس نے یہ فرض کر لیا کہ انسان اور بہت سی کائنات دونوں ایک ہی مجموعہ کے مختلف اجزا ہیں۔ جس طرح مٹی اور پانی دونوں ایک ہی قانون طبعی کے تابع ہیں ، اسی طرح انسان اور کائنات بھی ایک ہی قانون مادی کے تابع ہیں۔ جو قانون مادی دنیا میں تغیر پیدا کرتا ہے۔ وہی قانون انسانی سماج میں بھی تغیر پیدا کرتا ہے۔ یہ مارکسی فکر کی بنیادی غلطی تھی جس کی وجہ سے اس کا پورا نظام فکر غلط ہو کر رہ گیا۔ اس نے انسان کو محض مادی روپ میں دیکھا اور انسان اور کائنات کے درمیان ویسا ہی تعلق قائم کیا جیسا تعلق مٹی کے قوانین اور پانی کے قوانین کے درمیان ہوتا ہے۔ مارکس نے انسان کو کائناتی قوانین کا بے اختیارانہ معمول سمجھ لیا۔ حالانکہ کائنات انسان کے اختیارانہ عمل کا ماڈل ہے نہ کہ انسان کی بے اختیاری کی توسیع۔ کارل مارکس کی زندگی کے دو دور ہیں۔ پہلے دور کے مارکس کو انسانیت دوست مارکس (Humanist Marx) کہہ سکتے ہیں اور دوسرے دور کے مارکس کو اس کے اپنے الفاظ میں سائنٹفک مارکس (Scientific Marx) -

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader