حصہ اول تمہید
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
مارکس جرمنی میں اس وقت پیدا ہوا جب وہاں صنعتی انقلاب آچکا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک انسان دوسرے انسان کو لوٹتا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنی حرص اور جارحیت کا نشانہ بناتا ہے۔ یہ صورت حال دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا۔ وہ ان لوگوں کا حامی بن گیا جو اس زمانہ کے جرمنی اور فرانس اور برطانیہ میں سوشلزم کے اصول پر بہتر سماج کی تعمیر کرتے تھے۔ تاہم جلد ہی مارکس کو یہ احساس ہوا کہ سوشلٹوں کے پاس اخلاقی اپیل کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور محض اخلاقی اپیل کے ذریعہ بہتر سماج کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ اپنے بعد کے دور میں اس نے اس قسم کے سوشلزم کو خیالی سوشلزم (Utopian Socialism) کا نام دیا۔ اس کے بجائے وہ سائنٹفک سوشلزم کا حامی بن گیا جس کو اب عام طور پر کمیونزم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ خیالی سوشلزم کے علم برداروں کا کہنا تھا کہ بنیادی معاشی سرگرمیاں حکومت کے قبضہ یا کنٹرول میں رہنی چاہئیں تاکہ وہ عوامی انصاف کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی تنظیم کرے۔ مگر مارکس نے کہا کہ اصل مسئلہ حکومت کے کنٹرول یا نگرانی کا نہیں ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دوسرا سرمایہ دارانہ سماج " میں تمام انسان اپنی غرض اور ذاتی مفاد کے تحت جیتے ہیں۔ جب تک لوگوں کے اندر ذاتی مفاد کا ذہن ختم نہ ہو، بہتر انسانی سماج کی تعمیر نہیں کی جا سکتی۔ مارکس نے اپنے طویل مطالعہ کے بعد یہ " دریافت " کیا کہ انسان کا مزاج اور اس کی عادل تقسیم اور تبادلہ کے اس نظام کے مطابق بنتی ہے جو کسی سماج میں رائج ہو۔ مفاد پرستی کا موجودہ مزاج اس لئے ہے کہ سماج کے اندر تقسیم اور تبادلہ کا سرمایہ دارانہ نظام رائج ہے۔ اگر اس کو بدل کر سماج میں تقسیم اور تبادلہ کا اشتراکی نظام رائج کر دیا جائے تو انسانوں کا مزاج بھی بدل جائے گا۔ تین دور اس اعتبار سے مارکس نے انسانی سماج کے تین دور قرار دئے۔ مارکس کے نزدیک انسانی سماج ایک ترقی پذیر حقیقت ہے۔ وہ خود اپنے اندرونی قانون کے تحت ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف سفر کرتا ہے۔ اس سفر کے مطابق انسانی سماج کے تین درجے ہیں۔ سرمایہ دارانہ سماج (Capitalist society) سوشلٹ سماج (Socialist society) کمیونسٹ سماج (Communist society)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader