تمہید
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہید ”اسلام اور سوشلزم1 کو بیک وقت اختیار کیا جاسکتا ہے، ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔“ یہ ایک سراپا غلط خیال ہے جس کی بنیاد ایک دوسرے غلط خیال پر قائم ہے۔ اس طرح کی بات کہنے والے لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک مذہبی نظریہ ہے اور سوشلزم ایک معاشی نظریہ۔ دوسرے لفظوں میں، اسلام ایک عقیدہ ہے اور سوشلزم ایک سماجی نظام ہے۔ پھر دونوں پر ایک ساتھ ایمان لانے میں کیا حرج ہے۔ جس طرح کسی بھی مذہب کی پیروی کرتے ہوئے آدمی رزق کے حصول کے لیے کوئی پیشہ اختیار کر سکتا ہے اسی طرح کسی بھی ذریعہ سے رزق حاصل کرتے ہوئے آدمی کسی مذہب کا پیرو بن سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ تو اسلام محض ایک ’مذہبی نظریہ‘ ہے اور نہ سوشلزم محض ایک معاشی نظریہ۔ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اسلام خواہ کچھ بھی ہو، وہ سوشلزم کا مخالف نہیں ہے بلکہ سوشلزم خود اسلام ہی کی صدائے بازگشت ہے جو ایک ہزار سال کے بعد یورپ سے بلند ہوئی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور سوشلزم دو الگ الگ نظام ہیں جو فلسفہ اور عمل دونوں کے اعتبار سے باہم متصادم ہیں۔ وہ مکمل طور پر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یہ دو مختلف سمتوں میں بڑھنے والی لکیریں ہیں جن کے سرے کہیں بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ یہاں ہم کوشش کریں گے کہ اس تضاد کو کسی قدر وضاحت کے ساتھ بیان کریں اور ان دلائل کا بھی جائزہ لیں جو اسلام اور سوشلزم کو ایک ثابت کرنے کے لیے بعض حلقوں کی طرف سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ 1 سوشلزم موجودہ زمانہ میں ایک وسیع لفظ ہے جس کے مختلف معنی قرار دیے جاتے ہیں۔ مگر آئندہ سطروں میں میں نے خاص طور پر سوشلزم کی اس تعبیر کو سامنے رکھا ہے جس کو مارکس اور اس کے متبعین پیش کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader