سوشلزم کا فلسفہ
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
سوشلزم کا فلسفہ "ڈارون نے فطرت میں ارتقاء کا قانون دریافت کیا تھا، مارکس نے یہی قانون انسان کی سماجی تاریخ میں دریافت کیا ہے! " یہ فریڈرش انگلس کا ایک فقرہ ہے جو اس نے ۷ مارچ ۱۸۸۳ کو لندن میں ایک دوست کارل مارکس کی قبر پر تقریر کرتے ہوئے کہا۔ اس مختصر سے فقرہ میں انگلس نے مارکسی نظریہ کا پس منظر اور اس کی حقیقت دونوں بیان کر دی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشلزم جس کو مارکس نے زیادہ مکمل اور سائنٹفک انداز میں پیش کیا، یہ دراصل اس رجحان کی تکمیل ہے جس کی باقاعدہ اور علمی طور پر ڈارون سے ابتداء ہوئی تھی۔ اور وہ پھر اس خلاء کو پر کرتا ہے جو اس سابق فلسفہ میں باقی رہ گیا تھا۔ اس بات کو اگر دوسرے لفظوں میں کہنا چاہیں تو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یورپ میں سائنس اور کلیسا کے تصادم کے بعد انسان نے اپنے خدا سے جو بغاوت کی تھی وہ ابھی تک صرف ایک پاؤں پر کھڑی تھی جو ڈارون نے مہیا کیا تھا۔ سوشلسٹ فلسفہ اس بے خدا تہذیب کا دوسرا پاؤں ہے جو مارکس نے دریافت کیا ہے۔ زندگی کے دو اہم ترین مسئلے ہیں جن کے بارے میں کوئی رائے قائم کیے بغیر ہم ایک قدم بھی نہیں چل سکتے۔ ایک یہ کہ انسان کس طرح وجود میں آیا، دوسرے یہ کہ انسان کے لیے قانون زندگی کیا ہو۔ پہلے سوال کا مطلب اپنے وجود کی تشریح کرنا ہے اور دوسرے سوال کا مطلب اپنے لیے صحیح راہِ عمل کا تعین کرنا۔ ایک کا تعلق حیاتیاتی سائنس سے ہے اور دوسرے کا تعلق سماجی فلسفہ سے ۔ یہ دونوں سوالات بالکل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انسانی وجود کی ایک تشریح لازمی طور پر اس کے مطابق ایک طرزِ زندگی کا مطالبہ کرتی ہے، اور جب بھی کوئی طرزِ زندگی متعین کیا جاتا ہے تو یقینی طور پر اس کے پیچھے اپنے آغاز و انجام کا ایک تصور ہوتا ہے۔ قدیم ترین زمانہ سے انسان یہ مانتا
Marx Engels Selected Work VOL. II, P. 163 (Mascow-1949)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader